خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 55
خلافة على منهاج النبوة جلد اول (۳) الْحِكْمَةٌ - تَعْلِيمُ الْحِكْمَةِ کے لئے تجاویز اور تدابیر ہوں گی کیونکہ اس فرض کے نیچے احکام شرائع کے اسرار سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔( ٢ ) يُزَكِّيهِمْ - يُزَکیھم کے معنوں پر غور کیا تو ایک تو یہی بات ہے جو میں بیان کر چکا ہوں کہ دعاؤں کے دریعہ تزکیہ کرے۔پھر ابن عباس نے معنی کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اخلاص پیدا کرنا۔غرض ایک تو یہ معنی ہوئے کہ گناہوں سے بچانے کی کوشش کرے۔اس لئے جماعت کو گناہوں سے بچانا ضروری ٹھہرا کہ وہ گنا ہوں میں نہ پڑے۔اور دوسرے معنوں کے لحاظ سے یہ کام ہوا کہ صرف گناہوں سے نہ بچائے بلکہ ان میں نیکی پیدا کرے۔دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ ایک تو وہ ترا بیر اختیار کرے جن سے جماعت کے گناہ دور کر دے۔دوسرے اُن کو خوبصورت بنا کر دکھاوے۔اعلیٰ مدارج کی طرف لے جاوے اور اُن کے کاموں میں اخلاص اور اطاعت پیدا کرے۔پھر تیسرے معنی بھی یزکیھم کے ہیں وہ یہ کہ ان کو بڑھائے۔ان معانی کے لحاظ سے دین و دنیا میں ترقی دینا ضروری ہوا اور یہ ترقی ہر پہلو سے ہونی چاہیے۔دنیوی علوم میں دوسروں سے پیچھے ہوں تو اس میں ان کو آگے لے جاوے، تعداد میں کم ہوں تو بڑھائے ، مالی حالت کمزور ہو تو اس میں بڑھا دے۔غرض جس رنگ میں بھی کمی ہو بڑھاتا چلا جاوے۔اب ان معنوں کے لحاظ سے جماعت کی ہر قسم کی ترقی نبی اور اس کے ماتحت اس کے خلیفہ کا فرض ہوا۔پھر جب میل سے پاک کرنا اور ترقی کرانا اس کا کام ہوا تو اسی میں غرباء کی خبر گیری بھی آگئی کیونکہ وہ بھی ایک دنیا وی میل سے لتھڑے ہوتے ہیں اُن کو پاک کرنا اس کا فرض ہے۔اس غرض کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے زکوۃ کا صیغہ رکھا ہے کیونکہ جماعت کے غرباء اور مساکین کا انتظام کرنا بھی خلیفہ کا کام ہے اور اس کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے خود ہی اس کا بھی انتظام فرما دیا اور امراء پر ز کوۃ مقرر فرمائی۔پس یا د رکھو کہ یزکیھم کے معنی ہوئے پاک کرے، اخلاص پیدا کرے اور ہر رنگ میں بڑھائے۔چہارم صدقات کا انتظام کر کے اصلاح کرے۔اب انجمن والے بھی بے شک بولیں کیونکہ ان امور کے انتظام انجمن کو چاہتے ہیں۔مگر باوجود اس کے بھی یہ انجمن کا کام