خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 473

خلافة على منهاج النبوة ۴۷۳ جلد اول قرار دوں گا اور سختی سے سزا دوں گا۔مولوی محمد علی صاحب کو قادیان بعد میں میں نے سنا کہ مولوی محمد علی سے جانے سے باز رکھنے کی کوشش ا قادیان سے جانا چاہتے ہیں۔میں نے صاحب کو یہاں خوف ہے اس اس لئے وہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کو ایک خط لکھ کر دیا کہ آپ مولوی محمد علی صاحب کے پاس جاویں اور ان کو تسلی دیں کہ آپ کسی قسم کی فکر نہ کریں میں آپ کی حفاظت کا ذمہ دار ہوں اور آپ قادیان نہ چھوڑیں۔خط میں بھی اسی قسم کا مضمون تھا۔خط کا جواب مولوی محمد علی صاحب نے یہ دیا کہ یہ کب ہوسکتا ہے کہ میں قادیان چھوڑ دوں۔میں تو صرف گرمی کے سبب پہاڑ پر ترجمہ قرآن کا کام کرنے کیلئے جاتا ہوں اور اس کیلئے حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل کی زندگی میں ہی میں نے انجمن سے رخصت لے رکھی تھی اور میرا شکر یہ بھی ادا کیا کہ میں نے ان کی ہمدردی کی۔میں نے صرف اسی قدر کافی نہ سمجھا بلکہ اس کے بعد ان سے اسی مضمون کے متعلق زبانی گفتگو کرنے کے لئے خود ان کے گھر پر گیا۔میرے ہمراہ خان محمد علی خان صاحب اور ڈاکٹر رشید الدین صاحب تھے۔جب ہم وہاں پہنچے تو ابتداء کچھ ذکر ترجمہ قرآن کے متعلق ہوا۔اس کے بعد میں نے اس امر کے متعلق کلام کا رُخ پھیرا جس کے لئے میں آیا تھا کہ فوراً مولوی محمد علی صاحب نے ایک شخص المعروف میاں بگا کو جو کسی قدر موٹی عقل کا آدمی تھا آواز دی کہ ادھر آؤ اور اس سے اِدھر اُدھر کی باتیں شروع کر دیں۔جب میں نے دیکھا کہ مولوی محمد علی صاحب میاں بگا سے کلام ختم ہی نہیں کرتے تو لا چا راُٹھ کر چلا آیا۔اس کے بعد مولوی صاحب قادیان سے چلے گئے اور قریباً تین ہزار روپیہ کا سامانِ کتب و ٹائپ رائٹر وغیرہ کی صورت میں ترجمہ قرآن کے نام سے اپنے ساتھ لے گئے۔اس وقت بعض احباب نے مجھ سے کہا کہ ان سے یہ اسباب لے لیا جاوے کیونکہ یہ پھر واپس نہ آویں گے اور محض دھوکا دے کر یہ اسباب لئے جارہے ہیں اور بعض نے تو یہاں تک کہا کہ یہ خدا تعالیٰ کی امانت ہے آپ اس کی حفاظت میں کوتا ہی نہ کریں مگر میں نے ان سب احباب کو یہی جواب دیا کہ جب وہ کہتے ہیں کہ میں قرآن کریم کے ترجمہ کیلئے ان کتب