خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 474
خلافة على منهاج النبوة ۴۷۴ جلد اوّل کو اور اسباب کو لئے جا رہا ہوں اور صرف چند ماہ کے لئے اپنی سابقہ رخصت کے مطابق جا رہا ہوں تو ہما راحق نہیں کہ ان کی نیت پر حملہ کریں اور میں نے ان کو کچھ نہ کہا۔جیسا کہ بعد کے واقعات نے ثابت کیا ان مولوی محمد علی صاحب کا سرقہ کرنا احباب کی رائے درست تھی۔مولوی صاحب قادیان سے گئے اور ہمیشہ کے لئے گئے اور جو کچھ انہوں نے مجھے لکھا وہ سب ایک بہانہ تھا جس کے نیچے کوئی حقیقت پوشیدہ نہ تھی۔وہ کتب و اسباب جو وہ لے گئے تھے بعد میں اس کے دینے سے انہوں نے باوجود تقاضا کے انکار کر دیا اور جب تک دنیا کے پردہ پر مولوی محمد علی صاحب کا نام باقی رہے گا اُس وقت تک ان کے نام کے ساتھ یہ سرقہ کا بد نما عمل بھی یادگار رہے گا۔جو شخص اس طرح عاریتاً کتب و اسباب لیکر چند ماہ کے بہانہ سے جاتا اور پھر اس کی واپسی سے انکار کر دیتا ہے وہ ہر گز کسی جماعت کا لیڈر ہونے کا مستحق نہیں۔خصوصاً مسلمانوں کی سرداری کا عہدہ اس سے بہت ہی بالا ہے۔لا ہور کو مدينة أمسیح بنانا مولوی صاحب کا قادیان سے جاتا تھا کہ لاہور مین ام کا مدينة بن گیا حتی کہ لوگوں کے دلوں میں طبعا یہ سوال پیدا ہونے لگا کہ کیا مولوی محمد علی صاحب مسیح موعود ہیں کہ جب تک وہ قادیان میں تھے قادیان مدینہ امسیح تھا اور جب وہ لا ہور چلے گئے تو لا ہور مدینہ المسیح ہو گیا۔خیر اسی طرح لا ہور کو بھی او کچھ خصوصیت مل گئی اور منتظمانِ پیغام صلح کی وہ خواہش بر آئی جو ۱۰ / مارچ کے پرچہ میں بے اختیار ان کی قلم سے نکل گئی تھی اور جس کے یہ الفاظ ہیں :۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہاں وفات پانے سے کچھ خصوصیت تو اسے (لا ہور کو ) بھی ملنی چاہئے“۔اس فقرہ میں جس جاہ طلبی ، جس حصول مرتبت ، جس لجاجت ، جس امید ، جس خواہش کو مختصر الفاظ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اس کا لطف وہی لوگ حاصل کر سکتے ہیں جو خن فہمی سے کوئی حصہ رکھتے ہیں۔