خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 472

خلافة على منهاج النبوة ۴۷۲ جلد اول لاہور میں جماعت سے مشورہ کی تجویز ان لوگوں نے شور مچایا کہ جو لوگ قادیان میں اس وقت جمع تھے ان کی رائے نہ تھی ان کا مشورہ جماعت کا مشورہ نہ تھا اس لئے اخباروں اور خطوط کے ذریعہ سے تمام جماعت احمدیہ کو دعوت دی گئی کہ و ہ ۲۲ مارچ کو لاہور میں جمع ہوں تا کہ پورے طور پر مشورہ کیا جاوے۔اس تحریک عام پر پیغام صلح کے اپنے بیان کے مطابق لاہور کی جماعت کو ملا کر کل ایک سو دس آدمی جمع ہوئے جن میں قریباً بیالیس آدمی لاہور سے باہر کے تھے۔جن میں سے چار پانچ آدمیوں کے سوا باقی کسی جماعت کے نمائندہ نہیں کہلا سکتے۔بلکہ باقی لوگ اپنے اپنے طور پر ذاتی دلچسپی سے اس جلسہ میں شامل ہوئے تھے۔مولوی محمد علی صاحب کے لاہور کے ہم خیالوں نے ان بیالیس آدمیوں کے مشورہ سے جن میں صرف چار پانچ آدمی کسی جماعت کی نیابت کا حق رکھتے تھے جو کچھ فیصلہ کیا اسے کل جماعت احمدیہ کا مشورہ اور فیصلہ قرار دیا گیا اور اعلان کیا گیا کہ میری خلافت جائز و درست نہیں۔مگر ان ایک سو دس آدمیوں سے بھی دس آدمی بعد میں میری بیعت میں شامل ہو گئے جن میں سے ایک سید میر حامد شاہ صاحب مرحوم تھے جن کو انہوں نے خلیفہ المسیح بھی منتخب کیا تھا اور کل سو آدمی رہ گئے مگر باوجود اس کے اس جلسہ میں جو فیصلہ ہوا وہ جماعت کا فیصلہ تھا اور جو کل جماعت کا فیصلہ تھا وہ سازش کا نتیجہ اور انصار اللہ کی فریب بازی تھی۔ان لوگوں کا قادیان کو چھوڑ نا قادیان کی جماعت میں سے سب کے سب سوائے چار پانچ آدمیوں کے میری بیعت میں شامل تھے اور اب قادیان میں کسی کامیابی کی امید یہ لوگ دل سے نکال بیٹھے تھے اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ لا ہور کو مرکز بنایا جاوے۔مولوی محمد علی صاحب کے قادیان سے جانے کے لئے عذر تلاش کئے جانے لگے اور آخر ایک دن مجھے اطلاع دی گئی کہ مولوی صاحب جمعہ کی نماز پڑھ کر باہر نکل رہے تھے کہ تین چار بچوں نے ( جو پانچ سات سال تک کی عمر کے تھے ) ان پر کنکر پھینکنے کے ارادہ کا اظہار کیا۔میں نے اس پر درس کے وقت سب جماعت کو سمجھایا کہ گوبچوں نے ایسا ارادہ ظاہر کیا ہے مگر پھر ایسی بات سنی گئی تو میں ان کے والدین کو ذمہ دار