خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 427

خلافة على منهاج النبوة ۴۲۷ جلد اول خواجہ صاحب کی اِس کامیابی کو دیکھ کر جو بعد میں محض خیالی ثابت ہوئی جماعت کے ایک حصہ کے قدم پھر لڑکھڑا گئے اور جیسا کہ میں نے لکھا ہے وہ اسے آسمانی مد دسمجھ کر اپنی عقل کو غلطی خوردہ خیال کر کے خواجہ صاحب کی ہم خیالی میں ہی اپنی فلاح سمجھنے لگے اور پیغام صلح کے مضامین ان کے لئے اور بھی باعث ٹھو کر ہو گئے۔لیکن اس کشمکش کا یہ فائدہ بھی ہو گیا کہ جو کوششیں خفیہ کی جاتی تھیں اُن کا اظہار ہو گیا اور جماعت ہوشیار ہو گئی۔کچھ حصہ جماعت کا بیشک ہلاک ہو گیا مگر ان کی ہلاکت دوسروں کے بچانے کا ذریعہ بن گئی۔جب اختلاف کا اظہار ہو گیا تو اب پیغام میں جماعت قادیان پر حملے زیادہ پوشیدگی کی ضرورت نہ رہی۔پیغام صلح میں خوب کھلم کھلا طور پر قادیان کی جماعت پر اعتراضات ہونے لگے اور ان کے جوابات الفضل میں حضرت خلیفۃ المسیح کے مشورہ سے شائع ہوتے رہے۔گو یہ لوگ جو نہی حضرت خلیفۃ امسیح کی ناراضگی کا علم پاتے تھے فوراً آ کر آپ سے معافی مانگ لیتے مگر پھر جا کر وہی کام شروع ہو جاتا۔یہ زمانہ جماعت کے لئے بہت نازک تھا کیونکہ دشمن بھی اس اختلاف سے آگاہ ہو گئے جو اندر ہی اندر کئی سال سے نمودار ہو رہا تھا اور انہوں اس علم سے فائدہ اُٹھا کر ان لوگوں کو فساد پر اور بھی آمادہ کرنا شروع کیا اور کئی قسم کے سبز باغ دکھانے شروع کئے۔حتی کہ حضرت خلیفۃ المسیح کو پیغام صلح کا نام پیغام جنگ رکھنا پڑا۔خفیہ ٹریکٹ گو اخبار کے ذریعہ ہے بہت کچھ زہر یہ لوگ ہمارے خلاف اگلتے تھے مگر پھر بھی حضرت خلیفہ اسیح کا خوف ساتھ لگا رہتا تھا۔پس ان کے دل کا حوصلہ پوری طرح نہ نکلتا تھا اور خود حضرت خلیفتہ المسیح کے خلاف تو کھلم کھلا کچھ لکھ ہی نہ سکتے تھے۔اس لئے بنگال کے انارکسٹوں کے شاگرد بن کر مولوی محمد علی صاحب کے ہم خیال لوگوں کی ایک جماعت نے ایسے ٹریکٹوں کا ایک سلسلہ شروع کیا جن کے نیچے نہ پریس کا نام ہوتا تھا اور نہ لکھنے والے کا۔چنانچہ اس سلسلہ میں ان لوگوں نے دوٹر یکٹ شائع کئے جن کا نام اظہار الحق نمبر ا۔اور اظہار الحق نمبر ۲ رکھا گیا۔یہ دونوں ٹریکٹ وسط نومبر ۱۹۱۳ء میں ایک دو دن کے وقفہ سے ایک دوسرے کے بعد