خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 428

خلافة على منهاج النبوة ۴۲۸ جلد اول شائع ہوئے۔پہلا ٹریکٹ چار صفحہ کا تھا اور دوسرا آٹھ صفحہ کا۔دونوں کے آخر میں لکھنے والے کے نام کی بجائے داعی الی الوصیت لکھا ہوا تھا یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وصیت کی طرف جماعت کو بلانے والا۔پہلے ٹریکٹ کا خلاصہ ٹریکٹ اول کا خلاصہ یہ تھا کہ اس زمانہ میں جمہوریت کی اشاعت اس بات کی طرف اشارہ کرتی تھی کہ اس زمانہ کا مامور بھی جمہوریت کا حامی ہوگا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سوائے ان امور کے جن میں وحی ہوتی احباب سے مشورہ کر لیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے اس لئے مامور کیا ہے کہ انسانوں کی شانیں جو حد سے زیادہ بڑھا دی گئی ہیں ان کو دور کریں اور جب آپ کو اپنی وفات کے قُرب کی خبر خدا تعالیٰ نے دی تو آپ نے اپنی وصیت لکھی اور اس میں اپنے بعد جانشین کا مسئلہ اس طرح حل کیا کہ آپ کے بعد جمہوریت ہوگی اور ایک انجمن کے سپر د کام ہو گا۔مگر افسوس کہ آپ کی وفات پر جماعت نے آپ کے فرمودہ کو پس پشت ڈال کر پیر پرستی شروع کر دی اور جمہوریت کے رنگ کو نَسيا منسيا کر دیا۔اس وقت جماعت میں بہت سے لوگ ایسے موجود ہیں جنہوں نے بیعت مجبوری سے کی ہے ورنہ ان کے خیال میں اس بیعت لینے والے کی نسبت ( حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول ( بہتر لوگ جماعت میں موجود ہیں اور اس امر کا اصل و بال کارکنان صدرانجمن احمدیہ پر ہے جنہوں نے بانی سلسلہ کی وفات پر جماعت کو پیر پرستی کے گڑھے میں دھکیل دیا۔اب یہ حال ہے کہ حصولِ گدی کیلئے طرح طرح کے منصوبے کئے جاتے ہیں۔اور ایک خاص گروہ انصار اللہ اس لئے بنایا گیا ہے کہ تا قوم کے جملہ بزرگواروں کو نیچا دکھایا جاوے۔انصار اللہ کا کام ظاہر میں تو تبلیغ ہے لیکن اصل میں بزرگانِ دین کو منافق مشہور کرنا ہے۔مولوی غلام حسین صاحب پشاوری ، میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی ، مولوی محمد علی صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب شیخ رحمت اللہ صاحب ، ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب۔ان لوگوں کو قابل دار بتایا جاتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاف طور پر انجمن کو اپنا جانشین قرار دیا ہے نہ کسی واحد شخص کو۔حضرت مسیح موعود