خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 404

خلافة على منهاج النبوة ۴۰۴ جلد اول 0 خواجہ صاحب کا غیر احمدیوں کے قریب ہونا یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ جب انسان ایک غلط قدم اُٹھا تا ہے تو دوسرا خود بخود اُٹھتا ہے۔لیکچروں کے سلسلہ کی وسعت کے ساتھ خواجہ صاحب کے تعلقات غیر احمدیوں سے بھی زیادہ ہونے لگے۔وہ پہلے ہی سے سلسلہ کی حقیقت سے ناواقف تھے اب جو یہ مشکلات پیش آنے لگیں کہ بعض دفعہ جلسہ کے معاً بعد یا پہلے نماز کا وقت آجاتا اور غیر احمدی الگ نماز پڑھتے اور احمدی الگ اور لوگ پوچھتے کہ یہ تفریق کیوں ہے؟ تو خواجہ صاحب کو ایک طرف اپنی ہر دلعزیزی کے جانے کا خوف ہوتا دوسری طرف احمدیوں کی مخالفت کا ڈر۔اس کشمکش میں وہ کئی طریق اختیار کرتے۔کبھی کہتے کہ یہ نماز کی مخالفت تو عام احمدیوں کیلئے ہے کہ دوسروں سے مل کر متاثر نہ ہوں میرے جیسے پختہ ایمان آدمی کیلئے نہیں میں تو آپ لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنے کیلئے تیار ہوں۔کہیں جواب دیتے کہ ہم تو ایک امام کے تابع ہیں آپ لوگ ان سے دریافت کریں۔کہیں کہہ دیتے اگر آپ لوگ کفر کا فتویٰ واپس لے لیں تو ہم نماز پیچھے پڑھنے کے لئے تیار ہیں۔غرض اسی قسم کے کئی عذرات کرتے۔در حقیقت عبد الحکیم کے ارتداد کے وقت سے ہی ان کے خیالات خراب ہو چکے تھے مگر اب ان کے نشو و نما پانے کا وقت آ گیا تھا۔خواجہ صاحب شہرت و عزت کے طالب تھے اور یہ روکیں ان کی شہرت وعزت کے راستہ میں حائل تھیں اور جو کچھ بھی ہو ان روکوں کے دور کرنے کا خواجہ صاحب نے تہیہ کر لیا تھا۔سب سے پہلے یہ تدبیر اختیار کی گئی کہ پیسہ اخبار اور وطن اخبار میں مرزا یعقوب بیگ سے ایک مضمون دلوایا گیا کہ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کی ممانعت ایک عارضی حکم ہے اور اس طرح اس امر کی بنیا درکھنے کی کوشش کی گئی کہ کچھ مدت کے بعد ان لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنی شروع کر دی جاوے۔اس تحریر پر جماعت کے بعض لوگوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ اب بات حد سے آگے نکل رہی ہے ابھی وہ اسی فکر میں تھے کہ احمدیوں کی ان حرکات سے دلیر ہو کر غیر احمد یوں نے بھی حملے کرنے شروع کر دئیے اور احمد یوں کو تنگ ظرف اور وسعت حوصلہ سے کام نہ لینے والا قرار دینے لگے۔