خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 405
خلافة على منهاج النبوة ۴۰۵ جلد اول ان ہی ایام میں حضرت خلیفہ المسیح الاوّل سے سوال کیا گیا کہ کیا احمدیوں اور غیر احمد یوں میں اصولی فرق ہے یا فروعی؟ اس پر آپ نے جواب دیا کہ اصولی فرق ہے۔اس پر تو اندھیر پڑ گیا نہایت سختی سے غیر احمدی اخبارات نے حضرت خلیفہ اصیح پر حملے شروع کر دیئے کہ ایک معمولی سی بات پر انہوں نے مسلمانوں میں اختلاف ڈلوا دیا ہے۔تبلیغ احمدیت کا سوال اس بحث کے ساتھ ساتھ جو احمد یوں اور غیر احمد یوں میں تھی ایک سوال خود جماعت میں بھی چھڑا ہوا تھا اور وہ سوال تبلیغ احمدیت کا تھا۔خواجہ صاحب نے جب سے لیکچر دینے شروع کئے سوائے پہلے لیکچر کے آپ نے یہ بات خاص طور پر مد نظر رکھی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر آوے۔حالانکہ اس وقت سب امراض کا علاج اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی کو قرار دیا ہے۔بلکہ وہ کوشش کرتے تھے کہ اگر کسی موقع پر سلسلہ مضمون میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر ضروری ہو جاوے تو وہ اسے بھی ٹلا جاویں۔وہ یہ بات سمجھ چکے تھے کہ غیر احمد یوں میں اس قسم کے لیکچروں کے بغیر قبولیت نہیں ہو سکتی۔چونکہ غیر احمد یوں کو اگر عداوت ہے تو صرف مَأْمُور مِنَ الله سے وہ بھی ایسے لیکچروں میں خوب آتے اور بہت شوق سے آتے اور ہزاروں کا مجمع ہو جاتا۔جیسا کی میں پہلے بیان کر آیا ہوں خواجہ صاحب ان لیکچروں کو مقبول بنانے کیلئے خاص تدابیر بھی اختیار کرتے۔نتیجہ یہ ہوا کہ خواجہ صاحب کے لیکچر خوب مقبول ہونے لگے اور غیر احمدیوں نے بھی تعریفیں شروع کیں اور خواجہ صاحب کی چاروں طرف سے مانگ ہونے لگی۔احمدیوں نے جو یہ شوق لوگوں کا دیکھا تو اصل بات کو تو سمجھے نہیں خواجہ صاحب کی اس کامیابی کو سلسلہ کی کامیابی سمجھا اور خاص طور پر جلسہ کر کے مختلف جگہ کی جماعتوں نے بطور خود یا خواجہ صاحب کی تحریک پر خاص جلسے کرنے شروع کئے اور خیال کرنے لگے کہ اس طرح غیر احمدیوں کو سلسلہ سے اُنس ہوتے ہوتے لوگ داخل سلسلہ ہونے لگیں گے۔یہ وباء کچھ ایسی پھیلی کہ ہمارےسلسلہ کے دوسرے لیکچراروں نے بھی یہی طریق اختیار کرنا شروع کر دیا اور قریب ہو گیا کہ وہ قرنا جو خدا تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے پھونکی تھی اُس کی آواز ہمیشہ کیلئے بند ہو جائے۔یہ وقت احمدیت