خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 403
خلافة على منهاج النبوة سے محروم ہو جاؤ گے۔۴۰۳ جلد اول دوبارہ معافی اُس وقت یہ لوگ افسوس کا اظہار کرتے رہے مگر اُسی دن سے برابر کوشش شروع ہو گئی کہ لوگوں کو حضرت خلیفہ امسیح پر بدظن کیا جاوے۔کبھی کوئی الزام دیا جاتا کبھی کوئی۔اور علی الاعلان لاہور میں یہ ذکر اذ کا ررہتے کہ اب جس طرح ہو ان کو خلافت سے علیحدہ کر دیا جاوے۔ان واقعات کی اطلاع حضرت خلیفتہ امیج کو ہوئی۔عید قریب تھی آپ نے عید پر ان لوگوں کو لاہور سے بُلوایا ( خواجہ صاحب اس واقعہ میں شامل نہ تھے وہ اُس وقت کشمیر میں تھے اور جیسا کہ میں بتا چکا ہوں وہ اب خفیہ تدبیروں کو پسند کرتے تھے ) اور ارادہ کیا کہ عید کے خطبہ میں ان لوگوں کو جماعت سے نکالنے کا اعلان کر دیا جاوے۔چونکہ ان کو معلوم ہو گیا تھا کہ ہماری کوششیں بے سود ہیں اور لوگ ہماری باتوں کو نہیں سنتے آخر دوبارہ معافی مانگی اور ان میں سے بعض سے دوبارہ بیعت لی گئی اور اس طرح یہ نیا فتنہ ٹلا۔مگر اس واقعہ سے بھی ان کی اصلاح نہ ہوئی یہ لوگ اپنی کوششوں میں زیادہ ہوشیار ہو گئے۔اب خواجہ صاحب نے پبلک لیکچروں کا خواجہ صاحب کا شہرت حاصل کرنا سلسلہ شروع کیا کہ اس ذریعہ سے رسوخ پیدا کیا جاوے۔خود لیکچر دیتے ، خود ہی اپنے ہاتھ سے اپنے لیکچر کی تعریف لکھ کر سلسلہ کے اخبارات کو بھیج دیتے اور نیچے یکے از حاضرین لکھ دیتے اور اس طرح شہرت پیدا کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو خزانہ ہمیں دیا ہے وہ ایسا نہیں کہ لوگ اس کا ایک نقطہ بھی سنیں اور بے تاب نہ ہو جاویں۔کچھ لسانی بھی خواجہ صاحب میں تھی۔ادھر اپنے ہی ہاتھ سے لکھ کر یا بعض دفعہ کسی دوست سے لکھوا کر اپنی تعریفوں کے شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ خواجہ صاحب کی مانگ شروع ہوئی اور لیکچروں کا سلسلہ وسیع ہوا۔جہاں جہاں جاتے جماعت کو اشارتاً کنایتاً موقع ہو تو وضاحاً خلافت اور انجمن کے معاملہ کے متعلق بھی تلقین کرتے اور بوجہ اس شہرت کے جو بحیثیت لیکچرار کے ان کو حاصل ہو گئی تھی کچھ اثر بھی ہو جاتا۔