خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 402

خلافة على منهاج النبوة ۴۰۲ جلد اول دے دیا تھا پس ان کا حق ہے کہ ان سے کچھ رعایت کی جاوے مگر انہوں نے تسلیم نہ کیا۔آخر آپ نے ناراض ہو کر لکھ دیا کہ میری طرف سے اجازت ہے آپ جس طرح چاہیں کریں میں دخل نہیں دیتا۔جب انجمن کا اجلاس ہوا میں بھی موجود تھا۔ڈاکٹر محمد حسین صاحب حال سیکرٹری انجمن اشاعت اسلام لاہور نے میرے سامنے اس معاملہ کو اس طرح پیش کیا کہ ہم لوگ خدا تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہیں اور ٹرسٹی ہیں اس معاملہ میں کیا کرنا چاہئے۔میں نے کہا جب حضرت خلیفہ المسیح فرماتے ہیں کہ اس شخص سے کچھ رعایت کی جائے تو ہمیں چاہئے کہ کچھ رعایت کریں۔ڈاکٹر صاحب نے اس پر کہا کہ حضرت نے اجازت دے دی ہے۔جب خط سنایا گیا تو مجھے اس سے صاف ناراضگی کے آثار معلوم ہوئے اور میں نے کہا یہ خط تو ناراضگی پر دلالت کرتا ہے نہ کہ اجازت پر اس لئے میری رائے تو وہی ہے۔اس پر ڈاکٹر صاحب موصوف نے ایک لمبی تقریر کی جس میں خشیت اللہ اور تقویٰ اللہ کی مجھے تاکید کرتے رہے۔میں نے ان کو بار بار یہی جواب دیا کہ آپ جو چاہیں کریں میرے نزدیک یہی رائے درست ہے چونکہ ان لوگوں کی کثرت رائے تھی بلکہ اُسوقت میں اکیلا تھا انہوں نے اپنے منشاء کے مطابق ریزولیوشن پاس کر دیا حضرت خلیفتہ المسیح کو اطلاع ہوئی۔آپ نے ان کو بلایا اور دریافت کیا۔انہوں نے جواب دیا کہ سب کے مشورے سے یہ کام ہوا ہے اور میرا نام لیا کہ وہ بھی وہاں موجود تھے۔حضرت خلیفہ المسیح الاوّل نے مجھے طلب فرمایا۔میں گیا تو یہ سب لوگ بیٹھے ہوئے تھے میرے پہنچتے ہی آپ نے فرمایا کہ کیوں میاں ! ہمارے صریح حکموں کی اس طرح خلاف ورزی کی جاتی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے تو کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔آپ نے فرمایا کہ فلاں معاملہ میں میں نے یوں حکم دیا تھا پھر اس کے خلاف آپ نے کیوں کیا ؟ میں نے بتایا کہ یہ لوگ سامنے بیٹھے ہیں میں نے ان کو صاف طور پر کہ دیا تھا کہ اس امر میں حضرت خلیفتہ المسیح کی مرضی نہیں اس لئے اس طرح نہیں کرنا چاہئے اور آپ کی تحریر سے اجازت نہیں بلکہ ناراضگی ظاہر ہوتی ہے۔آپ نے اس پر ان لوگوں سے کہا کہ دیکھو! تم اس کو بچہ کہا کرتے ہو یہ بچہ میرے خط کو سمجھ گیا اور تم لوگ اس کو نہ سمجھ سکے اور بہت کچھ تنبیہ کی کہ اطاعت میں ہی برکت ہے اپنے رویہ کو بدلو ور نہ خدا تعالیٰ کے فضلوں