خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 265
خلافة على منهاج النبوة ۲۶۵ جلد اول بات نکل گئی۔یہ فتنہ جسے بولشوزم کا فتنہ کہنا چاہیے حضرت معاویہ کی حسن تدبیر سے شام میں تو چمکنے نہ پایا مگر مختلف صورتوں میں یہ خیال اور جگہوں پر اشاعت پا کر ابن سوداء کے کام میں محمد ہو گیا۔ابن سوداء شام سے نکل کر مصر پہنچا اور یہی مقام تھا جسے اس نے اپنے کام کا مرکز بنانے کے لئے چنا تھا۔کیونکہ یہ مقام دارالخلافہ سے بہت دُور تھا اور دوسرے اس جگہ صحابہ کی آمد و رفت اس کثرت سے نہ تھی جتنی کہ دوسرے مقامات پر۔جس کی وجہ سے یہاں کے لوگ دین سے نسبتا کم تعلق رکھتے تھے اور فتنہ میں حصہ لینے کیلئے زیادہ تیار تھے چنانچہ ابن سوداء کا ایک نائب جو کوفہ کا باشندہ تھا اور جس کا ذکر آگے آوے گا ان واقعات کے تھوڑے ہی عرصہ بعد جلا وطن کیا گیا تو حضرت معاویہ کے اس سوال پر کہ نئی پارٹی کے مختلف ممالک کے ممبروں کا کیا حال ہے؟ اس نے جواب دیا کہ انہوں نے مجھ سے خط و کتابت کی ہے اور میں نے ان کو سمجھایا ہے اور انہوں نے مجھے نہیں سمجھایا۔مدینہ کے لوگ تو سب سے زیادہ فساد کے شائق ہیں اور سب سے کم اس کی قابلیت رکھتے ہیں اور کوفہ کے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں لیکن بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب سے خوف نہیں کھاتے اور بصرہ کے لوگ اکٹھے حملہ کرتے ہیں مگر پراگندہ ہو کر بھاگتے ہیں۔ہاں مصر کے لوگ ہیں جو شرارت کے اہل سب سے زیادہ ہیں مگر ان میں یہ نقص ہے کہ پیچھے نادم بھی جلدی ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد شام کا حال اُس نے بیان کیا کہ وہ اپنے سرداروں کے سب سے زیادہ مطیع ہیں اور اپنے گمراہ کرنے والوں کے سب سے زیادہ نا فرمان ہیں۔یہ رائے ابن الکواء کی ہے جو ابن سوداء کی پارٹی کے رکنوں میں سے تھا اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر ہی سب سے عمدہ مقام تھا جہاں ابن سوداء ڈیرہ لگا سکتا تھا۔اور اس کی شرارت کی باریک بین نظر نے اس امر کو معلوم کر کے اس مقام کو اپنے قیام کے لئے چنا اور اسے فساد کا مرکز بنا دیا اور بہت جلد ایک جماعت اس کے اردگرد جمع ہو گئی۔اب سب پہلا د میں شرارت کے مرکز قائم ہو گئے اور ابن سوداء نے ان تمام لوگوں کو جو سزا یافتہ تھے یا ان کے رشتہ دار تھے یا اور کسی سبب سے اپنی حالت پر قانع نہ تھے نہایت جیسا کہ آگے ثابت کیا جاوے گا یہ اس کا جھوٹ تھا کہ مدینہ کے لوگ اس فتنہ سے محفوظ تھے۔بوقت نظر ثانی۔