خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 264
خلافة على منهاج النبوة ۲۶۴ جلد اول مدینہ سے گلتی طور پر قطع تعلق نہ کریں بلکہ وہاں آتے جاتے رہیں جس ہدایت پر ابو ذرہ ہمیشہ عمل کرتے رہے۔۱۵ یہ چوتھا فتنہ تھا جو پیدا ہوا اور گو اس میں حضرت ابوذر کو ہتھیار بنایا گیا تھا مگر در حقیقت نہ حضرت ابوذر کے خیالات وہ تھے جو مفسدوں نے اختیار کیے اور نہ ان کو ان لوگوں کی شرارتوں کا علم تھا۔حضرت ابوذر تو با وجود اختلاف کے کبھی قانون کو ہاتھ میں لینے پر آمادہ نہ ہوئے اور حکومت کی اطاعت اس طور پر کرتے رہے کہ باوجود اس کے کہ ان کے خاص حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کو فتنہ اور تکلیف سے بچانے کے لئے رسول کریم صلى الله نے ان کو ایک خاص وقت پر مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا تھا انہوں نے بغیر حضرت عثمان کی اجازت کے اس حکم پر عمل کرنا مناسب نہیں سمجھا اور پھر جب وہ مدینہ سے نکل کر ربذہ میں جا کر مقیم ہوئے اور وہاں کے محصل نے ان کو نماز کا امام بننے کے لئے کہا تو انہوں نے اس سے اس بناء پر انکار کیا کہ تم یہاں کے حاکم ہو اس لئے تم ہی کو امام بننا سزاوار ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اطاعت حکام سے اُن کو کوئی انحراف نہ تھا اور نہ انار کی کو وہ جائز سمجھتے تھے۔حضرت ابو ذر کی سادگی کا اس امر سے خوب پتہ چلتا ہے کہ جب ابن السوداء کے دھوکا دینے سے وہ معاویہ سے جھگڑتے تھے کہ بیت المال کے اموال کو مال اللہ نہیں کہنا چاہئے اور حضرت عثمان کے پاس بھی شکایت لائے تھے وہ اپنی بول چال میں اس لفظ کو برابر استعمال کرتے تھے چنانچہ اس فساد کے بعد جب کہ وہ ربذہ میں تھے ایک دفعہ ایک قافلہ وہاں اُترا۔اس قافلہ کے لوگوں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کے ساتھیوں کو ہم نے دیکھا ہے وہ بڑے بڑے مالدار ہیں مگر آپ اس غربت کی حالت میں ہیں۔انہوں نے ان کو یہ جواب دیا کہ إِنَّهُمْ لَيْسَ لَهُمْ فِى مَالِ اللهِ حَقٌّ إِلَّا وَلِى مِثْلُهُ لا یعنی ان کا مال اللہ (یعنی بیت المال کے اموال ) میں کوئی ایسا حق نہیں جو مجھے حاصل نہ ہو۔اسی طرح انہوں نے وہاں کے حبشی حاکم کو بھی رَقِيقٌ مِّن مَّال اللہ کا ( مال اللہ کا غلام ) کے نام سے یاد کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود بھی یہ لفظ استعمال کرتے تھے اور باوجود اس لفظ کی مخالفت کر نے کے بے تحاشا اس لفظ کا آپ کی زبان پر جاری ہو جانا اس امر کی شہادت ہے کہ یہ صحابہ کا ایک عام محاورہ تھا مگر ابن سوداء کے دھوکا دینے سے آپ کے ذہن سے بہ