خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 266

خلافة على منهاج النبوة ۲۶۶ جلد اول ہوشیاری اور دانائی سے اپنا ہاتھ ملانا شروع کیا اور ہر ایک کے مذاق کے مطابق اپنی غرض کو بیان کرتا تا کہ اُس کی ہمدردی حاصل ہو جاوے۔مدینہ شرارت سے محفوظ تھا اور شام بالکل پاک تھا۔تین مرکز تھے جہاں اس فتنہ کا مواد تیار ہورہا تھا بصرہ ، کوفہ اور مصر۔مصر مرکز تھا مگر اس زمانہ کے تجربہ کار اور فلسفی دماغ انارکسٹوں کی طرح ابن سوداء نے اپنے آپ کو خَلْفَ الاستار رکھا ہوا تھا۔سب کام کی روح وہی تھا مگر آگے دوسرے لوگوں کو کیا ہوا تھا۔بوجہ قریب ہونے کے اور بوجہ سیاسی فوقیت کے جو اُس وقت بصرہ اور کوفہ کو حاصل تھی یہ دونوں شہر ان تغیرات میں زیادہ حصہ لیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔لیکن ذرا بار یک نگاہ سے دیکھا جاوے تو تاریخ کے صفحات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان تمام کا رروائیوں کی باگ مصر میں بیٹھے ہوئے ابن السوداء کے ہاتھ میں تھی۔میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ کوفہ میں ایک جماعت نے ایک شخص علی بن حیسمان الخزاعی کے گھر پر ڈاکہ مار کر اُس کو قتل کر دیا تھا اور قاتلوں کو دروازہ شہر پر قتل کر دیا گیا تھا۔ان نوجوانوں کے باپوں کو اس کا بہت صدمہ تھا اور وہ اس جگہ کے والی ولید بن عتبہ سے اس کا بدلہ لینا چاہتے تھے اور منتظر رہتے تھے کہ کوئی موقع ملے اور ہم انتقام لیں۔یہ لوگ اس فتنہ انگیز جماعت کے ہاتھ میں ایک عمدہ ہتھیار بن گئے جن سے انہوں نے خوب کام لیا۔ولید سے بدلہ لینے کے لئے انہوں نے کچھ جاسوس مقرر کیے تا کہ کوئی عیب ولید کا پکڑ کر ان کو اطلاع دیں۔جاسوسوں نے کوئی کارروائی تو اپنی دکھانی ہی تھی۔ایک دن آکر ان کو خبر دی کہ ولید اپنے ایک دوست ابوز بیر کیسا تھ مل کر جو عیسائی سے مسلمان ہوا تھا شراب پیتے ہیں۔ان مفسدوں نے اُٹھ کر تمام شہر میں اعلان کر دیا کہ لو یہ تمہارا والی ہے۔اندر اندر چھپ چھپ کر اپنے دوستوں کے ساتھ شراب پیتا ہے۔عامۃ الناس کا تو جوش بے قابو ہوتا ہی ہے اِس بات کوسن کر ایک بڑی جماعت ان کے ساتھ ہو گئی اور ولید کے گھر کا سب نے جا کر محاصرہ کر لیا۔دروازہ تو کوئی تھا ہی نہیں۔سب بے تحا شا مسجد میں سے ہو کر اندر گھس گئے ( ان کے مکان کا دروازہ مسجد میں کھلتا تھا) اور ولید کو اُس وقت معلوم ہوا جب وہ ان کے سر پر جا کھڑے ہوئے۔انہوں نے ان کو دیکھا تو گھبرا گئے اور جلدی سے کوئی چیز چار پائی کے