خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 263
جلد اول خلافة على منهاج النبوة ۲۶۳ آپ کے صحابہ میں سے بعض مالدار تھے۔اگر مالدار نہ ہوتے تو غزوہ تبوک کے وقت دس ہزار سپاہیوں کا سامانِ سفر حضرت عثمان کس طرح ادا کرتے۔مگر رسول کریم ان لوگوں کو کچھ نہ کہتے تھے۔بلکہ ان میں سے بعض آدمی آپ کے مقرب بھی تھے۔غرض مالدار ہونا کوئی جرم نہ تھا بلکہ قرآن کی پیشگوئیوں کے عین مطابق تھا اور حضرت ابوذر کو اس مسئلہ میں غلطی لگی ہوئی تھی۔مگر جو کچھ بھی تھا حضرت ابو ذرا اپنے خیال پر پختہ تھے مگر ساتھ ہی یہ بات بھی تھی کہ وہ اپنے خیال کے مطابق نصیحت تو کر دیتے مگر قانون کو کبھی اپنے ہاتھ میں نہ لیتے اور آنحضرت ﷺ کے احکام آپ کے زیر نظر رہتے۔لیکن جن لوگوں میں بیٹھ کر وہ یہ باتیں کرتے تھے وہ ان کے تقویٰ اور طہارت سے نا آشنا تھے اور ان کی باتوں کا اور مطلب سمجھتے تھے۔چنانچہ ان باتوں کا آخر یہ نتیجہ نکلا کہ بعض غرباء نے امراء پر دست تعدی دراز کرنا شروع کیا اور ان سے جبراً اپنے حقوق وصول کرنے چاہے۔انہوں نے حضرت معاویہؓ سے شکایت کی جنہوں نے آگے حضرت عثمان کے پاس معاملہ پیش کیا۔آپ نے حکم بھیجا کہ ابوذر کو اکرام و احترام کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ کر دیا جاوے۔اس حکم کے ماتحت حضرت ابوذر مدینہ تشریف لائے۔حضرت عثمان نے آپ سے دریافت کیا کہ کیا سبب ہے کہ اہلِ شام آپ کے خلاف شکایت کرتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ میرا اُن سے یہ اختلاف ہے کہ ایک تو مال اللہ نہ کہا جائے دوسرے یہ کہ امراء مال نہ جمع کریں۔حضرت عثمان نے فرمایا کہ ابوذر! جو ذمہ داری خدا تعالیٰ نے مجھ پر ڈالی ہے اس کا ادا کرنا میرا ہی کام ہے اور یہ میرا فرض ہے کہ جو حقوق رعیت پر ہیں اُن سے وصول کروں اور یہ کہ ان کو خدمت دین اور میانہ روی کی تعلیم دوں مگر یہ میرا کام نہیں کہ ان کو ترک دنیا پر مجبور کروں۔حضرت ابوذر نے عرض کیا کہ پھر آپ مجھے ، اجازت دیں کہ میں کہیں چلا جاؤں کیونکہ مدینہ اب میرے مناسب حال نہیں۔حضرت عثمان نے کہا کہ کیا آپ اس گھر کو چھوڑ کر اس گھر سے بدتر گھر کو اختیار کر لیں گے؟ انہوں نے کہا کہ مجھے رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ جب مدینہ کی آبادی سلع تک پھیل جاوے تو تم مدینہ میں نہ رہنا۔حضرت عثمانؓ نے اس پر فرمایا کہ آپ رسول خدا کا حکم بجالا ویں اور کچھ اونٹ اور دو غلام دے کر مدینہ سے رُخصت کیا اور تاکید کی کہ صل اللهم