خزینۃ الدعا — Page 177
خَزِينَةُ الدُّعَاءِ ادعِيَةُ المَهْدِى پیش لفظ ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی ﷺ نے مسیح موعود و مہدی معہود کو آخری زمانے کے پرفتن دور کا نجات دہندہ قرار دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ اس زمانے کی زبر دست مادی طاقتوں کے مقابلہ کی کسی کو طاقت نہ ہو گی۔تب مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ وحی کرے گا کہ میرے بندوں کو طور ( پہاڑ ) کی پناہ میں لے جا“۔(مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال) یعنی جس طرح حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی قوم کیلئے دامن طور میں دعاؤں کے نشان دیکھے آج پھر ویسی دعاؤں کی برکت سے مسیح موعود" اور ان کی جماعت کو کامیابی عطا ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔مسیح موعود کے متعلق یہی لکھا ہے کہ مسیح کے دم سے کا فر مریں گے یعنی وہ اپنی دعا کے ذریعہ سے تمام کام کریگا۔دعا میں خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار بذریعہ الہامات کے یہی فرمایا ہے کہ جو کچھ ہو گا دعا ہی کے ذریعہ سے ہوگا۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ ۳۶) امام مہدی کو مہدی کہنے کا سبب بزرگان سلف نے یہ لکھا ہے کہ کسی عظیم الشان پوشیدہ امر کی طرف اسکی رہنمائی کی جائیگی اور وہ ”راز“ دعا ہی تھا۔جو مادہ پرستی کے اِس دور میں مسیح موعود کو سکھایا گیا، جب دنیا معجزات اور نشانات سے منکر ہو چکی تھی۔ایک طرف آپ کو احرام الدعا کے الہام میں دعاؤں کی تحریک کی گئی تو دوسری طرف قبولیت دعا کے وعدے دیئے گئے۔چنانچہ آپ نے ببانگ دہل دنیا میں میں یہ اعلان فرمایا :۔استجابت دعا کا مجھے نشان دیا گیا ہے جو چاہے میرے مقابلہ پر آئے۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحه ۵۴) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک طرف منکرین دعا کو عملی طور پر لا جواب کر کے دکھایا تو دوسری طرف اپنی جماعت میں دعا پر پہاڑوں کی طرح غیر متزلزل یقین اور ایمان 179