خزینۃ الدعا — Page 178
خَزِينَةُ الدُّعَاءِ IV اَدْعِيَةُ الْمَهْدِى پیدا فرما دیا۔انہیں دعا کا وہ شوق و ذوق بخشا کہ دعا ان مخلصین کا اوڑھنا بچھونا بن گئی۔الغرض اس دور کے مہدی نے دعاؤں کے ڈھنگ اور سلیقے اپنے مولیٰ سے سیکھے۔اپنی جماعت پر دعا کی حقیقت آشکار فرمائی اور محض زبانی اور رسمی دعاؤں کا رنگ ایسا بدلا کہ گھر گھر میں مقبول دعاؤں کے حیرت انگیز نظارے برپا ہونے لگے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی جماعت کو ہر مشکل گھڑی میں دعاؤں کے دامن طور میں پناہ عطا فرمائی۔جس کا اندازہ حضرت اماں جان کے ان الفاظ سے خوب لگایا جا سکتا ہے جو انہوں نے حضرت مسیح مو عود علیہ السلام کی وفات پر اپنی اولاد کو مخاطب کرتے ہوئے فرمائے تھے کہ بچو! گھر خالی دیکھ کر یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے ابا تمہارے لئے کچھ نہیں چھوڑ گئے انہوں نے آسمان پر تمہارے لئے دعاؤں کا بڑا بھاری خزانہ چھوڑا ہے۔“ فی الحقیقت دعاؤں کا یہ خزانہ صرف آپ کے گھر والوں کیلئے ہی نہیں تھا بلکہ ہر سعید الفطرت ان دعاؤں کا وارث ہے جو مسیح موعود کے روحانی گھر میں داخل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہ صرف اپنی جماعت اور سلسلہ کیلئے دن رات دعائیں کی ہیں بلکہ آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق اس دور کے تقاضوں کو پورا کر نیوالی ان الہامی دعاؤں کا ایک بہت بڑا خزانہ بھی ہمارے فائدہ کیلئے اپنے پیچھے چھوڑا ہے، جن کا ذکر آپ کی تصانیف، ملفوظات ، مکتوبات وغیرہ میں موجود ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس قیمتی خزانہ سے فائدہ اٹھانے والے بنیں اسی مقصد کے پیش نظر یہ رسالہ مرتب کیا گیا ہے۔قبل ازیں اس عاجز کی مرتب کردہ قرآنی دعائیں اور رسول اللہ کی دعائیں، جن احباب جماعت کے مطالعہ میں آئیں۔ان کی طرف سے اسی طرز پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا ئیں اپنے تعارفی پس منظر کے ساتھ جمع کر نیکی باصرار تحریک ہوئی۔یوں یہ رسالہ مرتب کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جملہ دعا ئیں حتی الوسع اپنے سیاق وسباق کے ساتھ پیش کرنے کی سعی کی گئی ہے۔رسالہ کے آغاز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں دعا کی اہمیت و برکات دُعا کے آداب اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معمولات دعا کے اہم مضامین بیان کئے گئے 180