ختم نبوت کی حقیقت — Page 93
۹۳ وغیرہ کے الفاظ فرمائے ہیں وہاں آپ کا منشاء یہ ہے کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو مجھ سے آزاد ہوکر اور میری شریعت کو منسوخ کر کے اور میرے دامنِ نبوت سے کٹ کر نبی ہونے کا دعوے کرے۔اور اس معنی میں میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں لیکن اس کے مقابل پر جہاں آپ نے یہ فرمایا ہے کہ میرے بعد نبی آ سکتا ہے اور میری اُمت کا مسیح موعود نبی ہوگا وہاں آپ کا مقصد یہ ہے کہ میری شریعت کا خادم بن کر اور میرے نور سے نور پا کر اور گویا میرے سورج کے ساتھ چاند کی طرح وابستہ ہو کر میرا ایک روحانی فرزند نبوّت کے مقام کو پہنچ سکتا ہے ایسے شخص کی نبوت کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پھر بھی آخری نبی رہتے ہیں اور لا نبی بعدی کے مفہوم میں کوئی رخنہ پیدا نہیں ہوتا کیونکہ شاخ اپنی جڑھ سے جدا نہیں اور نہ ظلق اپنے اصل سے الگ ہے۔ہم اصولا ساری حدیثوں کو قبول کرتے ہیں اب دیکھو کہ یہ ایک کیسا سہل اور کیسا آسان طریق ہے جس میں حدیثوں کا ظاہری تضاد گویا ایک لفظ کے کہنے سے اور ایک کانٹے کے بدلنے سے بالکل دُور ہو جاتا ہے۔اور ہمارے آقا ( فداہ نفسی ) کی ہر حدیث ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہمارے دل کی راحت قرار پاتی ہے اور کسی مزید بحث کی ضرورت نہیں رہتی۔میں جانتا ہوں کہ ان حدیثوں کی صحت اور عدم صحت کے متعلق بعض لوگوں نے لمبی لمبی بحثیں کی ہیں۔اور اس میدان میں داخل ہونے سے یقیناً کافی بحث کا رستہ گھل سکتا ہے لیکن جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں میں اس جگہ بحث میں نہیں جانا چاہتا بلکہ دلیل کی خاطر ان ساری حدیثوں کو قبول کرتا ہوں جن کی طرف میں نے اُو پر اشارہ کیا ہے۔میں مانتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا