ختم نبوت کی حقیقت — Page 92
۹۲ پیش کرتے ہیں۔بہر حال قرآن کی کوئی ایک آیت بھی ایسی نہیں جس میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کے سلسلہ کے بند ہونے کا ذکر ہو بلکہ اللہ تعالیٰ نے کمال حکمت سے قرآن مجید کا آغاز ہی اس شاندار مضمون کے ساتھ کیا ہے کہ جو جو انعامات پہلی امتوں کو متفرق طور پر ملتے رہے ہیں وہ سب کے سب ہلا استثناء امت محمدیہ کو اکمل اور اتم صورت میں ملیں گے۔کیا ایسی کامل و مکمل کتاب جو اس وسیع نظریہ کے ساتھ شروع ہو رہی ہے اس تنگ نظریہ کی تائید کر سکتی ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت نے خدائی انعام واکرام کے وسیع دریا کو خشک کر کے رکھ دیا ہے؟ اور جو نہر میں پہلے جاری تھیں وہ اب بند ہوگئی ہیں۔هیهات هيهات لما يصفون۔حدیثوں میں کوئی حقیقی تضاد نہیں باقی رہا حدیث کا معاملہ۔سو اس کے تضاد کوڈ ور کرنا کوئی مشکل کام نہیں کیونکہ اس کا تضاد محض ظاہری ہے حقیقی نہیں۔چند حدیثیں ہم پیش کرتے ہیں جن سے یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے دین کی خدمت کے لئے آپ ہی کے خادموں میں سے آپ ہی کے نور سے ٹور پا کر اور آپ ہی کا عکس لیکر ایک شخص نبوت کے مقام کو پہنچ سکتا ہے۔اس کے مقابل پر چند حدیثیں دوسرا فریق پیش کرتا ہے جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خُدا کے آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی اور نبی نہیں۔بظاہر یہ ایک بھاری تضاد ہے۔مگر دوستو اور عزیز و اور ہمارے مشترکہ آقا کے نام لیواؤ! خدا تمہاری آنکھیں کھولے، کیا یہ تضاد اس ایک حکیمانہ لفظ سے دُور نہیں کیا جا سکتا کہ جہاں ہمارے آقا نے لا نبی بعدی اور ائی آخر الانبیاء