ختم نبوت کی حقیقت — Page 94
۹۴ ہے کہ لا نبی بعدی ( یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں )۔میں مانتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ابی آخر الانبیاء (یعنی میں آخری نبی ہوں) مگر میں ان حدیثوں کے وہ معنی نہیں کر سکتا جس کے نتیجہ میں میرے آقا کی دوسری حدیثیں نعوذ باللہ غلط قرار پائیں۔میں ان حدیثوں کے وہ معنی نہیں کر سکتا جن سے میرے آقا کی شان میں کمی آئے۔پس میں جہاں ان حدیثوں کو مانتا ہوں وہاں اُن دوسری حدیثوں کو بھی مانتا ہوں جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور شاگردی میں نبی آسکتا ہے اور یہ کہ آنے والا مسیح جو آپ کا رُوحانی فرزند ہے نبوت کے مقام کو پہنچے گا۔میں ان ہر دو قسم کی حدیثوں کو مانتا ہوں کیونکہ اس طرح حدیثوں کا تضاد دُور ہوتا ہے اور میرے آقا کی یہ بلندشان ظاہر ہوتی ہے کہ اُس کے خادم اس کی خوشہ چینی میں نبوت کے مقام کو پہنچ سکتے ہیں۔ہمارے رسول پاک نے فرمایا تھا اور بالکل سچ فرمایا تھا کہ :۔لو كان موسی و عیسی حيّين لما وسعهما الا اتباعي الیواقیت والجواہر مرتبہ امام شعرانی جلد ۲ صفحہ ۲۰) یعنی اگر اس وقت موسیٰ اور عیسی زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اتباع کے بغیر چارہ نہ ہوتا۔“ لیکن ایک غیر مسلم معاند کہہ سکتا تھا کہ نعوذ باللہ یہ صرف ایک منہ کا دعوی ہے، جس کا کوئی ثبوت نہیں۔مگر خُدا نے آپ کے خادموں میں سے ایک شخص کو مثیل مسیح بنا کر اور اُسے نبوت کے مقام تک پہنچا کر بتا دیا کہ اس کے حبیب کا دعویٰ بالکل سچا تھا۔جس کی صداقت پر واقعات نے مُہر لگا دی ہے۔کیا ہمارے مخالف اصحاب واقعات کی اس شہادت کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں؟ کیا وہ حدیثوں کے اس تضاد کو حل کرنے کی خاطر ہماری طرح