ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 81 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 81

ΔΙ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی نبوت مراد ہے نہ کہ عام نبوت ) اور مطلب یہ ہے کہ میری مخصوص نبوت میں سے شریعت والا حصہ تو ختم ہو گیا ہے۔مگر مبشرات باقی ہیں۔“ پس اس حدیث کے متعلق ہمارا پہلا جواب تو یہی ہے کہ یہ حدیث عام نہیں تھی۔بلکہ جیسا کہ سیاق و سباق سے ظاہر ہے اور جیسا کے سابقہ علماء امت نے بھی تصریح کی ہے اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مخصوص نبوت کی طرف اشارہ فرمایا تھا۔اور اس کا تعلق صرف اس زمانہ کے ساتھ تھا جو آپ کی وفات کے معا بعد آنے والا تھا تا کہ صحابہ کو اپنی وفات کی خبر دے کر تسلی دی جائے کہ میں تو جا رہا ہوں مگر مبشرات کی صورت میں خدا کے فضل و رحمت کا سایہ تمہارے ساتھ رہے گا۔اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے جلد بعد کسی نبی کی بعثت مقدر نہیں تھی اس لئے آپ نے وقت کے تقاضا کے مطابق مبشرات کی تشریح میں صرف رویائے صالحہ کے ذکر پر اکتفا فر ما یا۔رسول پاک کے عہد میں قلتِ الہام کی وجہ عقلاً بھی یہی ضروری تھا (اور یہ ایک خاص نکتہ ہے جو یاد رکھنا چاہئیے ) کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور اس کے قریب قریب وحی والہام کے سلسلہ کو زیادہ وسیع نہ کیا جاتا تا قرآنی وحی کے ساتھ کسی دوسری وحی کے خلط ہونے کا خطرہ نہ پیدا ہو۔اسی لئے آپ نے ان حالات کو دیکھتے ہوئے اپنے زمانہ کے لئے مبشرات کی اس تشریح پر اکتفا فر ما یا کہ اس سے رویا صالحہ مراد ہے۔چنانچہ اس کے متعلق علامہ ابن حجر