ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 82 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 82

موصوف صحیح بخاری کی شرح میں لکھتے ہیں :۔۸۲ وكان السر في ندور الالهام فى زمنه و کثرته من بعده۔۔۔۔۔۔۔۔۔لمن اختصه الله به للامن من اللبس فى ذلك۔(فتح الباری جلد ۱۲ صفحه ۳۰۵) یعنی یہ بات کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کے زمانہ میں الہام کی وہ کثرت نہیں پائی جاتی جو بعد کے زمانہ میں پائی جاتی ہے اس میں تقدیر الہی کا یہ راز مخفی تھا کہ تا قر آنی وحی کے ساتھ کسی دوسری وحی کا خلط نہ واقع ہو۔“ میہ وہ لطیف تشریح ہے جو اس حدیث کی ثابت ہوتی ہے اور ہر شخص جو صاف دلی کے ساتھ اس حدیث کے الفاظ اور اس کے سیاق و سباق پر غور کرے گا اس پر یہ بات مخفی نہیں رہے گی کہ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قریب کے زمانہ کا ذکر فرمایا ہے۔اور یہ کہ مبشرات کے لفظ کی جو تشریح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے الرؤيا الصالحة کے الفاظ سے فرمائی ہے وہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے ساتھ مخصوص تھی عام نہیں تھی۔لیکن اگر اس حدیث کو عام سمجھا جائے تو پھر بھی کثرت معانی کے اصول کے ماتحت کوئی حرج لازم نہیں آتا۔کیونکہ جیسا کہ ہم ابتدائی بحث میں بتا چکے ہیں، نبوت تین قسم کی ہوتی ہے۔اوّل تشریعی نبوت جس کے ساتھ کسی نئی شریعت کا نزول ہوتا ہے جیسا کہ مثلاً حضرت موسیٰ اور ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نئی شریعت عطا کی گئی۔دوسرے مستقل نبوت جس کے ساتھ کوئی نئی شریعت تو نہیں ہوتی مگر ایسا نبی کسی سابقہ نبی کی پیروی اور شاگردی کے بغیر براہ راست نبوت پاتا ہے اور اس کی نبوت کسی دوسرے