ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 80 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 80

۸۰ آپ یہ سمجھ رہے تھے کہ اب میں اپنے عزیز صحابہ سے رخصت ہو رہا ہوں۔ایسے موقع پر انسان طبعا اس مخصوص تعلق کی طرف اشارہ کیا کرتا ہے جو اُسے اپنے پیچھے رہنے والے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔اور اپنے اس تعلق کے واسطے سے وہ اُنہیں مناسب الفاظ کے ذریعہ تسلی دینے کی کوشش کرتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ صحابہ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق ایک شارع نبی کا تھا۔پس لامحالہ آپ کے ان الفاظ کا یہی منشاء سمجھا جائے گا کہ اس جگہ آپ تصرف تشریعی نبوت کا ذکر فرمارہے ہیں نہ کہ عام۔گو یا بالفاظ دیگر آپ کا مقصد یہ تھا کہ اے میرے عزیز صحابیو! اب میں تو تم سے رخصت ہو رہا ہوں اور میری وفات کے ساتھ خدا کے اس تشریعی کلام کا نزول بھی جو میرے ذریعہ ہو رہا تھا بند ہو جائے گا۔لیکن تم گھبرانا نہیں۔بلکہ خدا کی طرف دھیان رکھناوہ تمہیں بھولے گا نہیں اور مومنوں پر اپنی بشارتوں اور رویا صالحہ کے ذریعہ اپنی رحمت کا نزول فرما تا رہے گا وغیرہ وغیرہ۔پس یہ ایک مخصوص قسم کا کلام تھا، جو آپ نے اپنی وفات کو قریب دیکھتے ہوئے اپنی مخصوص نبوت کے پیش نظر فرمایا۔اور اس میں صرف اس مخصوص زمانہ کی طرف اشارہ کرنا مقصود تھا جو آپ کی وفات کے معا بعد آنے والا تھا نہ کہ عام۔چنانچہ یہی وہ تشریح ہے جو اسلام کے چوٹی کے علماء اس حدیث کی کرتے آئے ہیں۔مثلاً علامہ ابن حجر (وفات ۸۵۲ ہجری) جو فنِ حدیث میں امام کا درجہ رکھتے ہیں اس حدیث کی تفسیر میں فرماتے ہیں:۔اللام في النبوة للعهد والمراد نبوّتة والمعنى لم يبق بعد النبوة المختصة بي الا المبشرات (فتح الباری جلد ۱۲ صفحه ۳۰۵) یعنی اس حدیث میں جو النبوۃ کا لفظ آیا ہے اس سے مخصوص طور پر آنحضرت