ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 79 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 79

الناس انه لم يبق - الخ صحیح مسلم و ابوداؤد بحوالہ فتح الباری جلد ۱۲ صفحه ۳۰۵) و یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں ایک دن جبکہ آپ نے بیماری کی شدت کی وجہ سے اپنا سر باندھا ہوا تھا اپنے دروازے کا پردہ اُٹھایا ( اور اس وقت لوگ حضرت ابوبکر کے پیچھے صفیں بنا کر نماز کے لئے تیار کھڑے تھے ) اور اپنے صحابہؓ سے مخاطب ہوکر فرمایا۔لوگو! سنو کہ اب صرف مبشرات باقی رہ گئی ہیں۔“ یہ وہ حدیث ہے جس سے ہمارے مخالفین بعض اوقات یہ استدلال کیا کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ کلّی طور پر بند ہو گیا ہے اور مسلمانوں کے لئے اب صرف خواب وغیرہ ہی باقی ہے جو کبھی کسی مومن کو آجائے۔اور اس کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔لیکن یہ استدلال بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔بلکہ اگر غور کیا جائے تو یہ حدیث بھی صرف وہی حقیقت بیان کر رہی ہے جو ہم اوپر درج کر آئے ہیں۔یعنی یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تشریعی نبوت اور مستقل نبوت کا دروازہ تو بے شک بند ہے لیکن ظلی نبوت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور شاگردی میں ملتی ہے اس کا دروازہ ہرگز بند نہیں۔بلکہ گھلا ہے اور گھلا رہے گا۔مرض الموت میں مبشرات والے اعلان کی حکمت اس کے لئے سب سے پہلے تو یہ جاننا چاہیئے کہ یہ الفاظ جو اس حدیث میں بیان ہوئے ہیں، یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں فرمائے تھے۔جب کہ