ختم نبوت کی حقیقت — Page 68
۶۸ نے اس مختصر سی انفرادی خلافت کو ایک دور اور نظام کے طور پر پیش فرمانا تھا؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔پھر ہر تاریخ دان یہ بھی جانتا ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کی خلافت ملكًا عاضًا اور ملا جبرية ( یعنی کاٹنے والی حکومت اور جبری حکومت ) کے دوروں کے درمیان اور اُن کے اندر گھری ہوئی واقع تھی نہ کہ اُن کے بعد۔کیونکہ حضرت عمر بن عبد العزیز کے بعد بھی جبری حکومت کا دور چلتا رہا۔لیکن زیر نظر حدیث صریح طور پر خلافت کے دُوسرے دور کو جبری حکومت کے دور کے بعد بیان کر رہی ہے۔جو اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ خلافت کے اس دور سے حضرت عمر بن عبد العزیز کی خلافت مراد نہیں ہو سکتی۔علاوہ ازیں ثمّ سکت (یعنی اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے ) کے الفاظ بھی قطعی طور پر ثابت کر رہے ہیں کہ یہاں اُس دورِ خلافت کا ذکر ہے جس کے بعد اسلام کی تاریخ نے گویا ایک پلٹا کھانا تھا۔اور ایک نئے انقلابی زمانہ کی بنیا د رکھی جاتی تھی۔لیکن حضرت عمر بن عبد العزیز کی خلافت سے ہر گز کسی نئے زمانہ کی بنیاد قائم نہیں ہوئی۔پس جس طرح بھی دیکھا جائے اس حدیث کو بنو امیہ کے خلیفہ حضرت عمر بن عبد العزیز پر چسپاں کرنا ایک سینہ زوری اور زبردستی کے فعل سے زیادہ نہیں۔اور جس نے بھی ایسا سمجھا ہے اُس نے ایک خطر ناک اجتہادی غلطی کھائی ہے۔خلاصہ یہ کہ اس حدیث میں جو ہم نے اُو پر درج کی ہے صریح طور پر آخری زمانہ میں مسلمانوں کو خلافت علی منہاج النبوۃ کا وعدہ دیا گیا ہے۔اور یہ خلافت اس بات کی متقاضی ہے کہ کوئی ظلی اور امتی نبی پیدا ہو کر خلافت حقہ کی بنیاد قائم کرے۔وهو المراد۔