ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 67 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 67

۶۷ کہ ثُمّ سکت یعنی اس قدر بیان فرمانے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔اس خاموشی میں یہ اشارہ کرنا مقصود تھا کہ اس دُوسری خلافت کے ساتھ اسلام کی تاریخ کا پہلا دور ختم ہو کر ایک نیا دور شروع ہو جائے گا۔اور یہ نیا دور وہی ہے جو اب خُدا کے فضل سے بانی سلسلہ احمدیہ کی بعثت کے ساتھ شروع ہو چکا ہے۔چنانچہ حدیث کی مشہور کتاب مشکوۃ میں جہاں یہ حدیث نقل کی گئی ہے وہاں اس کے بین السطور یہ الفاظ لکھے ہیں کہ:۔الظاهر ان المراد به ز من عیسی و المهدی - ( مشکوۃ طبع اصبح المطابع کراچی صفحہ ۴۶۱) د یعنی یہ بات ظاہر ہے کہ خلافت کے اس دُوسرے دور سے مسیح اور مہدی کا زمانہ مراد ہے۔“ یہ اُن لوگوں کی شہادت ہے جن کی اولاد ( خدا سے ہدایت دے) اس وقت گویا ہمیں ملیا میٹ کرنے کے درپے ہے۔والفضل ما شهدت به الاعداء - حضرت عمر بن عبد العزیز ہرگز اس خلافت کے مصداق نہیں ہو سکتے اس جگہ اگر کسی کے دل میں یہ شبہ پیدا ہو کہ بعض لوگوں نے اس حدیث میں خلافت کے دوسرے دور کو حضرت عمر بن عبد العزیز اموی پر چسپاں کیا ہے تو یہ شبہ ایک نادانی کا شبہ ہوگا۔کیونکہ اوّل تو خلافت علی منہاج النبوۃ کے الفاظ ایک با قاعدہ نظام اور باقاعدہ دور کے متقاضی ہیں۔حالانکہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی خلافت صرف دو سواد و سال رہ کر ختم ہو گئی تھی (طبری و تاریخ کامل ابن اثیر ) تو کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم