ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 69 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 69

19 اس حدیث میں نبوت کے ذکر کو کیوں مخفی رکھا گیا ؟ ہے بعض لوگ جو زیادہ تر تبر کا مادہ نہیں رکھتے لیکن اعتراض کی طرف جلدی قدم اُٹھانے کے عادی ہوتی ہیں۔اس حدیث کے متعلق یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ اس حدیث میں آخری زمانہ کے متعلق صرف خلافت کا ذکر ہے۔نبوت کا کوئی ذکر نہیں۔اس لئے اس سے نبوت کے متعلق استدلال کرنا درست نہیں۔مگر یہ اعتراض بھی بالکل بودا اور کمزور ہے کیونکہ ہر شخص آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا کہ جب حدیث میں خلافة على منهاج النبوۃ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔یعنی ” نبوت کے طریق پر خلافت یا بالفاظ دیگر نبو ت کے بعد آنے والی خلافت تو لا زما اس قسم کی خلافت کے ذکر میں نبوت کا ذکر خود بخو د آ جاتا ہے۔اور علیحدہ ذکر کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔کیونکہ جب نبوّت ہی نہ ہو گی تو خلافت جو نبوت کا تتمہ ہے کس طرح قائم ہو جائیگی ؟ علاوہ ازیں ہمارے مخالفین نے اس بات پر بھی غور نہیں کیا حالانکہ موجودہ بحث میں یہ ایک بنیادی امر ہے کہ جماعت احمدیہ کے بانی حضرت مسیح موعود کو ہرگز ہرگز کسی علیحد ہ نبوت کا دعویٰ نہیں ہے۔بلکہ صرف ایسی ظلی نبوت کا دعوی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا حصہ اور اسی کا عکس ہے۔اس صورت میں ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس جگہ نبوت کے علیحدہ ذکر کی قطعا ضرورت نہیں تھی۔دراصل یہ اسی قسم کی صورت ہے جو قرآن مجید نے سورۂ جمعہ میں اختیار کی ہے۔جس کا ذکر ہم اُو پر کر آئے ہیں۔چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے :۔