ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 61 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 61

۶۱ صاف اقرار فرما رہے ہیں کہ باوجود آیت خاتم النبیین کے اُمت محمدیہ میں غیر تشریعی امتی نبی " آ سکتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ اس جگہ ہماری بحث امکانِ نبوت میں ہے نہ کہ وقوع نبوت میں جو ایک بالکل جدا گانہ موضوع ہے۔میں امید کرتاہوں کہ ہمارے ناظرین اس بار یک فرق کو جو میں نے اس جگہ بیان کیا ہے غور کے ساتھ سمجھ کر اس شبہ سے بچنے کی کوشش کریں گے جو اس موقع پر بعض کم فہم اصحاب یا دھوکا دینے والے بے اُصول لوگ پیدا کیا کرتے ہیں۔اور یہی اُصولی تشریح بعض دُوسرے بزرگانِ دین کے اقوال کے متعلق بھی مد نظر رکھنی چاہئیے جن کے متعلق بعض خُود غرض اصحاب شبہ پیدا کرنے کی کوشش کیا کرتے ہیں۔حضرت ابوبکر اس اُمت کے افضل ترین انسان ہیں سوائے اس کے کہ آئندہ کوئی نبی پیدا ہو جائے۔دوسری حدیث جو میں اس جگہ پیش کرنا چاہتا ہوں وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک مشہور قول پر مشتمل ہے۔ہمارے آقا صلی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔ابوبکر افضل هذه الأمة الا ان يكون نبى - ( دیلمی بحوالہ کنوز الحقائق مرتبہ امام منادی طبع مصر صفحہ ۷) یعنی ابو بکر میری اُمت میں سب سے افضل درجہ رکھتا ہے سوائے اِس کے کہ آئندہ کوئی نبی پیدا ہو جائے۔“