ختم نبوت کی حقیقت — Page 62
۶۲ اور ایک دوسری حدیث میں آپ فرماتے ہیں :۔ابو بکر خیر الناس الا ان يكون نبی۔(طبرانی کبیر و کامل ابن عدی بحوالہ جامع الصغیر مرتبه امام سیوطی طبع مصر صفحه ۵) د یعنی ابوبکر اِس اُمت کا بہترین انسان ہے سوائے اس کے کہ بعد میں کوئی نبی پیدا ہو جائے۔یہ دو حدیثیں جو ایک ہی مفہوم کی حامل ہیں اور حدیث کی تین مختلف کتابوں سے لی گئی ہیں کسی تشریح کی محتاج نہیں۔ان میں ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اور کیسے صاف الفاظ میں فرماتے ہیں کہ میری اُمت میں ابو بکر کا درجہ سب سے بلند ہے ہاں اگر بعد میں کوئی نبی پیدا ہو جائے تو اور بات ہوگی۔کیونکہ ایک نبی کا درجہ بہر حال ایک غیر نبی سے افضل ہوتا ہے۔یہ حدیثیں اپنے الفاظ اور اپنے مفہوم میں اتنی صریح اور اتنی واضح ہیں کہ اُن کے متعلق کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہو سکتی۔اور پھر یہ حدیثیں ہماری بنائی ہوئی نہیں ہیں بلکہ سینکڑوں سال سے دُنیائے اسلام میں شائع اور متعارف چلی آتی ہیں۔اور ان حدیثوں کو نقل کرنے والے بھی مسلمانوں کے دو بڑے پائے کے بزرگ یعنی امام منادی اور امام سیوطی ہیں۔اور پھر جو ترجمہ ہم نے اس جگہ ان حدیثوں کا کیا ہے وہ بھی عربی قواعد کے مطابق بالکل درست اور صحیح ہے جسے ہر عربی دان شخص خود آسانی کے ساتھ چیک کر سکتا ہے۔بیشک اگر ان حدیثوں میں نبی کا لفظ نبیا کی صورت میں منصوب ہوتا تو اس کے یہ معنی ہوتے کہ :۔ابوبکر میری اُمت میں افضل ترین انسان ہے سوائے اس کے کہ وہ بعد میں خود نبی بن جائے۔“