ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 60 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 60

اب کیا ”میں کہتا ہوں“ کے الفاظ کی موجودگی میں کوئی شخص حضرت ملا صاحب کے ذاتی عقیدہ کے متعلق شبہ کر سکتا ہے؟ لیکن اگر بالفرض یہی صورت ہو کہ حضرت ملا علی قاری نے یہ خیال محض امکانی رنگ میں بیان کیا ہو تو پھر بھی ہماری مندرجہ بالا دلیل بہر حال قائم رہتی ہے کیونکہ اس جگہ سوال یہ نہیں کہ عملاً کسی نبی کے آنے یا نہ آنے کے متعلق حضرت ملا صاحب موصوف کا ذاتی خیال کیا تھا بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ حدیث لو عاش ابراھیم لكان صديقا نبیا کے معنی کیا سمجھتے تھے۔اور یہ کہ آیت خاتم النبیین کی موجودگی میں اُن کا عقیدہ کسی غیر تشریعی امتی نبی کے آ سکنے یا نہ آسکنے کے متعلق کیا تھا ؟ گویا اس جگہ کسی نبی کے آنے یا نہ آنے کا سوال نہیں بلکہ آ سکنے یا نہ آ سکنے کا سوال ہے۔اور اس کے متعلق حضرت ملا علی قاری کا یہ حوالہ جو او پر درج کیا گیا ہے ایسا صریح اور ایسا واضح ہے کہ اس میں قطعا کسی تاویل کی گنجائش نہیں۔کیونکہ اُنہوں نے صاف فرما دیا ہے کہ اگر حدیث لو عاش ابراهيم لكان صديقًا نبيًّا کے مطابق حضرت ابراہیم نبی بن جاتے تو پھر بھی اُن کا نبی بنا ہرگز آیت خاتم النبیین کے خلاف نہ ہوتا کیونکہ حضرت ملا صاحب کے نزدیک اس آیت کے صرف یہ معنی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی صاحب شریعت یا غیر امتی نبی نہیں آسکتا نہ یہ کہ کوئی غیر تشریعی امتی نبی بھی نہیں آسکتا۔پس اگر بالفرض ( اور میں یہ بات صرف فرض کے طور پر کہہ رہا ہوں ) حضرت ملا علی قاری کا ذاتی خیال یہی تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئیگا تو پھر بھی ہمارے استدلال میں ہرگز کوئی رخنہ پید انہیں ہوتا کیونکہ حدیث لو عاش ابراهيم لكان صديقًا نبیا کے ماتحت حضرت ملا صاحب