ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 34 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 34

۳۴ ہوئے حضرت مسیح موعود کیا خوب فرماتے ہیں کہ :۔نچه داد است ہر نبی را جام داد آن جام را مرا بتمام دل من برد و الفت خود داد خود مراشد بوحی خود استاد ام من خدارا بدو شناخته ام دل بدیں آتشم گداخته ناصحان را خبر ز حالم نیست گزرے سوئے آں زلالم نیست ( نزول المسیح) رسول پاک کے پیر و ساری برکتوں کے وارث ہیں اس وقت تک میں نے یہ بتایا ہے کہ سورہ فاتحہ کی آیت علیحدہ اور منفر دصورت میں بھی امت محمدیہ کے لئے سارے ان انعاموں کا دروازہ کھول رہی ہے جو گذشتہ امتوں کو ملے تھے۔اب میں سورۂ نساء والی آیت کو علیحدہ صورت میں لیکر ثابت کرتا ہوں کہ وہ بھی اس دروازہ کو واضح طور پر کھول رہی ہے۔یہ آیت جیسا کہ وہ اوپر کی بحث میں بھی درج کی جاچکی ہے یہ ہے:۔وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِينَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِيْنَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا (سوره نساء آیت ۷۰) یعنی جو لوگ اللہ اور اس رسول کی سچی پیروی اختیار کرتے ہیں وہ ان لوگوں کے ساتھ شامل ہیں جن پر خدا نے انعام کیا یعنی نبی اور صدیق اور شہید اور صالح اور یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے بہت اچھے ساتھی اور رفیق ہیں۔"