ختم نبوت کی حقیقت — Page 35
۳۵ اب دیکھو کہ یہ آیت علیحدہ صورت میں بھی کس وضاحت کے ساتھ اعلان کر رہی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے متبعین کے لئے خدا کے سارے انعاموں کا رستہ گھلا ہے۔یعنی وہ حسب استعداد اور علی قدر مراتب نبی بھی بن سکتے ہیں،صدیق بھی بن سکتے ہیں ، شہید بھی بن سکتے ہیں اور صالح بھی بن سکتے ہیں۔اور یہ وہ طبقات ہیں جن کی رفاقت ایک دوسرے کے لئے بڑی بابرکت اور پاکیزہ ہے۔گویا اس آیت کی رُو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اتنا بلند اور اتنا ارفع ہے کہ آپ کی پیروی انسان کو بڑے سے بڑے رُوحانی انعام کا وارث بنا سکتی ہے۔اور کوئی انعام ایسا نہیں جو آپ کے سچے مشبع کی پہنچ سے باہر ہو۔اس کے مقابل پر جب اللہ تعالیٰ دوسری آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ باقی نبیوں کا ذکر کرتا ہے تو وہاں نبوت کے انعام کا ذکر ترک کر کے صرف صدیقوں اور شہیدوں کے ذکر پر ہی اکتفا فرماتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے:۔الَّذِينَ آمَنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُوْنَ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ تهم - ( سوره حدید آیت ۲۰) یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر سچا سچا ایمان لاتے رہے ہیں وہ خُدا کے نزدیک حسبِ استعداد صدیق اور شہید کا درجہ پاتے رہے ہیں۔66 ان دو آیتوں ( یعنی سورہ نساء کی آیت اور سورہ حدید کی آیت) کے الفاظ اور مفہوم میں جو نمایاں فرق پایا جاتا ہے وہ ہر عقلمند انسان کو اس بات کا یقین دلانے کے لئے کافی ہے کہ جہاں سابقہ نبیوں کے متبعین کے لئے صرف صدیق اور شہید بننے کا انعام گھلا تھا اور وہ