ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 33 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 33

۳۳ کی کسی نبی میں نظیر نہیں مل سکتی۔اسرائیلی نبیوں کو الگ کر کے تمام لوگ اکثر موسوی امت میں ناقص پائے جاتے ہیں۔رہے انبیاء سو ہم بیان کر چکے ہیں کہ انہوں نے حضرت موسیٰ سے کچھ نہیں پایا بلکہ وہ براہ راست نبی کئے گئے۔مگر اُمت محمدیہ میں ہزار ہا لوگ محض پیروی کی وجہ سے ولی کئے گئے۔(اور ایک وہ بھی ہو جو امتی بھی ہے اور نبی بھی )۔“ (حقیقۃ الوحی حاشیہ صفحہ ۲۸) حضرت مسیح موعود کا یہ لطیف جواب کسی تشریح کا محتاج نہیں۔مگر میں اس جگہ اہلِ ذوق کے لئے ایک ضمنی بات ضرور کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ جواب جو او پر درج کیا گیا ہے ایک ایسی حقیقت سے تعلق رکھتا ہے جس کا علم عقل یا تاریخ وغیرہ کے نتیجہ میں ہرگز حاصل نہیں ہوسکتا بلکہ یہ جواب وجدان اور عرفان کے دائرہ سے تعلق رکھتا ہے۔پس اگر غور کیا جائے تو حضرت مسیح موعود کا یہ جواب ضمنا آپ کے اعلیٰ رُوحانی مقام کی بھی دلیل ہے کیونکہ اس قسم کے وجدانی جواب پر وہی شخص آگاہ ہوسکتا ہے جو خود صاحب حال ہو۔اور خدائے قدوس کا خاص قُرب رکھتا ہو۔اور اس کے ساتھ ساتھ وہ دُوسرے مقربین بارگاہ الہی کے مقام قرب کو بھی جانتا اور سمجھتا ہو۔ورنہ اس قسم کے وجدانی امور کی خبر دوسرے لوگوں کو نہیں ہو سکتی۔ان باتوں کو یا تو خدا جانتا ہے جس پر کوئی بات پوشیدہ نہیں۔اور یا وہ لوگ جان سکتے ہیں جو در بار قدسی تک رسائی رکھتے ہیں کیونکہ اندر کی چیز باہر والے نہیں دیکھ سکتے۔اور نہ خدائی دربار کی باتیں دوسروں کو نظر آسکتی ہیں۔سوالحمد للہ کہ خُدا نے ہمیں وہ بلند مرتبہ امام عطا فر ما یا جس نے اپنے مقدس آقا کے طفیل خدا سے وہ سارے انعامات پائے جو پہلے لوگوں نے براہ راست پائے تھے۔اس نعمت الہی کا ذکر کرتے