ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 32 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 32

اور حضرت یحیی اور حضرت عیسے وغیر ہم بہت سے نبی آئے مگر امت محمدیہ میں ابھی تک صرف ایک ہی نبی مبعوث ہوا ہے؟ اگر نبوت واقعی ایک انعام ہے اور اگر امت محمدیہ واقعی افضل ہے تو اس اُمت میں اُن سے بھی زیادہ نبی مبعوث ہونے چاہیئے تھے۔اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ بیشک حضرت موسیٰ کی اُمت میں بظاہر بہت نبی آئے مگر یہ نبی حضرت موسیٰ کی پیروی اور فیض کا نتیجہ نہیں تھے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں براہِ راست نبوّت کے انعام سے نواز کر موسوی شریعت اور موسوی اُمت کی خدمت میں لگا دیا تھا اس لئے ان کا آنا موسوی اُمت کی افضلیت کا نشان نہیں تھا۔لیکن اس کے مقابل پر جو نبی امت محمدیہ میں مبعوث ہوا ہے وہ خالصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض یافتہ اور آپ کا رُوحانی فرزند ہے اور اس نے جو کچھ پایا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شاگردی اور غلامی میں پایا ہے۔اس لئے اس کا آنا خواہ وہ ایک ہی ہے یقینا امت محمدیہ کی افضلیت کی دلیل ہے۔چنانچہ اسی قسم کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے سلسلہ احمدیہ کے بانی حضرت مسیح موعود علیہ السّلام فرماتے ہیں اور کیا خوب فرماتے ہیں کہ:۔اس جگہ یہ سوال طبعا ہو سکتا ہے کہ حضرت موسی کی امت میں بہت سے نبی گزرے ہیں ( اور امت محمدیہ میں اس وقت تک صرف ایک ہی نبی آیا ہے) پس اس حالت میں موسیٰ کا افضل ہونا لازم آتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ (حضرت موسی کی اُمت میں ) جس قدر نبی گزرے ہیں اُن سب کو خُدا نے براہِ راست چن لیا تھا حضرت موسیٰ کا اس میں کچھ بھی دخل نہیں تھا۔لیکن اس اُمت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی برکت سے ہزار ہا اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔اس کثرتِ فیضان