ختم نبوت کی حقیقت — Page 181
۱۸۱ دے چکے دل اب تنِ خا کی رہا ہے یہی خواہش کہ ہو وہ بھی فیدا تم ہمیں دیتے کا فر کا خطاب کیوں نہیں لوگو تمہیں خوف عقاب یہ ہمارے سلسلہ کے بانی حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود علیہ السلام کا کلام ہے جس کے لفظ لفظ اور حرف حرف پر ہمارا ایمان ہے۔لعنۃ اللہ علی من کذب۔دُنیا اِس وقت مانے یا نہ مانے لیکن صداقت انشاء اللہ غالب آکر رہے گی اور آج جن لوگوں کو نعوذ باللہ اسلام کا دشمن اور رسول پاک کی ہتک کرنے والا قراردیا جاتا ہے وہی بالآخر بچے ثابت ہوں گے اور اسلام کی فتح کا نظارہ انہی کے نام پر بجے گا۔دُنیا اس وقت اس نازک مقام پر ہے جہاں سے آگے جانے والے رستے پھٹتے ہیں۔اور خُدا کی ازلی تقدیر نے مقدر کر رکھا ہے کہ جماعت احمدیہ کا قدم اسی رستہ پر پڑتا چلا جائے گا جو کامیابی اور کامرانی کا رستہ ہے۔اور وہ وقت دور نہیں کہ دُنیا پکارے گی اور ہمیں کافر کہنے والوں کی اولا د شہادت دے گی کہ ہمارے رسول پاک صلے اللہ علیہ وسلم ( فدا نفسی ) کی شان کی رفعت اور اسلام کی سر بلندی اُس عقیدہ میں نہیں ہے جو ہمارے مخالف کہتے ہیں بلکہ اس عقیدہ میں ہے جو ہم کہتے ہیں۔ختم نبوت کا مسئلہ وہ آخری خندق ہے جو ہمارے اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان حائل ہے اور جب ہم نے خُدا کے فضل و رحم کے ساتھ اس خندق کو کامیابی سے سر کر لیا تو انشاء اللہ اگلا