ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 152 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 152

۱۵۲ حضرت مولانا رومی کی شہادت اسلام کے وسطی زمانہ کی دوسری شہادت حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللہ علیہ (وفات ۷۲ ہجری) کے کلام میں ملتی ہے مگر یہ یاد رہے کہ اس جگہ میری غرض سارے حوالے پیش کرنا نہیں ہے بلکہ میں یہاں صرف مثال کے طور پر چند حوالے پیش کر رہا ہوں تا یہ بات ثابت ہو کہ مسئلہ ختم نبوت کے متعلق جماعت احمدیہ کا عقیدہ نیا نہیں ہے بلکہ ہر زمانہ میں اسلام کے بعض چوٹی کے علماء اور صلحاء اور صوفیاء کم و بیش انہی خیالات کا اظہار کرتے آئے ہیں۔اس غرض کے ماتحت بعض حوالے او پر درج کئے جاچکے ہیں۔اور بعض حوالے ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔چنانچہ مولا نا رومی جن کی مثنوی مسلمانوں کے ہر طبقہ میں مقبول ہے اور اعلیٰ درجہ کے علوم اور تصوف سے معمور مانی گئی ہے۔فرماتے ہیں:۔بہر ایں خاتم شد است او که بجود * مثل او نے بود نے خواهند بود چونکه در صنعت برو استاد دست * نے تو گوئی ختم صنعت بر تو ہست (مثنوی مولاناروم دفتر ششم صفحه ۸) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اس لئے خاتم النبیین رکھا گیا کہ آپ کے برابر نہ تو کوئی شخص پہلے لوگوں میں گزرا ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔دیکھو جب کوئی ماہر فن کسی صنعت میں سب سے آگے نکل جاتا ہے تو کیا تم اس کے متعلق یہ نہیں کہتے کہ یہ صنعت تو تجھ پر ختم ہو گئی ہے؟ پس سمجھ لو کہ اسی معنی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بات ختم ہوئی ہے۔"