ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 151 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 151

۱۵۱ لیکن حق یہ ہے کہ حضرت شیخ محی الدین ابن عربی نے ہرگز یہ نہیں کہا اور نہ ہی اُنہوں نے کسی جگہ یہ عقیدہ ظاہر فرمایا ہے کہ ہر نبی کے لئے شریعت کا لانا ضروری ہے بلکہ وہ تو صاف الفاظ میں اعلان فرماتے ہیں کہ :۔التشريع جزء من اجزاء النبوة (فتوحات مکیہ جلد ۲ صفحہ ۱۰۰) ر یعنی شریعت کا نزول نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔نہ کہ 66 عین نبوت۔“ پس جبکہ شیخ موصوف کے نزدیک شریعت کا نزول نبوت کے ساتھ لازم و ملزوم ہی نہیں ہے تو اُن کی طرف یہ خیال کس طرح منسوب کیا جا سکتا ہے کہ ہر نبی کے لئے شریعت کا لانا ضروری ہے؟ لہذا اگر اُنہوں نے کسی جگہ نبوت عامہ ( یعنی غیر تشریعی نبوت ) کو ولایت کے لفظ سے تعبیر کیا ہے تو یقینا یہ صرف ایک مجازی استعمال کی صورت ہے۔جو اُنہوں نے اپنے رنگ میں عوام الناس کو غیر تشریعی نبوت کی حقیقت سمجھانے کے لئے اختیار کی ہے۔اور ان کا مقصد صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ ہر نبی لا زما ولی بھی ہوتا ہے۔اور یہ کہ نبوت عامہ جس کے ساتھ شریعت شامل نہیں وہ دراصل ولایت ہی کا ایک ترقی یافتہ مقام ہے۔ولک ان يصطلح فافهم و تدبّر ولا تكن من الممترین۔اسی لئے حضرت شیخ محی الدین ابن عربی نے حضرت ہارون علیہ السلام کے متعلق یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ وہ کوئی شریعت نہیں لائے بلکہ موسوی شریعت کے تابع تھے انہیں قرآنی ارشاد و وهبناله هارون نبیا کے ماتحت نبی قرار دیا ہے۔(فتوحات مکیہ جلد ۲ صفحہ ۴،۳)