ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 153 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 153

۱۵۳ اب دیکھو کہ یہ حوالہ کتنا صاف اور واضح ہے۔حضرت مولانا رومی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ خاتم النبیین کے لفظ سے یہ نہ مجھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدائی انعاموں کی نہر کو بند کرنے والے ہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ افضل الرسل ہیں اور آپ نے اپنے اندر نبوت کے کمالات کو احسن اور اتم صورت میں جمع فرمایا ہے۔اور پھر مثال دیکر فرماتے ہیں کہ جس طرح ایک عدیم المثال ماہر فن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس پر فلاں صنعت ختم ہے۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے بھی یہ معنی ہیں کہ آپ میں نبوت کی تشریح کی وجہ سے کا فرقرار دینے والوسوچو اور غور کرو کہ کیا یہ وہی تشریح نہیں ہے جو ہم کرتے ہیں؟ اور پھر سوچو اور غور کرو کہ کیا ہماری تشریح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی) کی شان کے مطابق ہے یا کہ آپ لوگوں کی یہ تشریح کہ ختم نبوت سے مراد جاری شدہ نہروں کا بند کرنا ہے؟ ہم اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے ہر مسلمان اپنے دل سے فتویٰ پوچھے اور خدا کو حاضر ناظر جان کر جواب دے۔حضرت امام محمد طاہر کی شہادت اس کے بعد میں وسطی زمانے کے ایک اور ممتاز بزرگ حضرت امام محمد طاہر (وفات ۹۸۶ ہجری) کی شہادت پیش کرتا ہوں جنہیں بعض لوگوں نے اپنے زمانہ کا امام مانا ہے اور جن کی کتاب مجمع السجار کی لغت میں ایک بڑے پائے کی کتاب تسلیم کی گئی ہے۔امام محمد طاہر موصوف لکھتے ہیں:۔عن عائشة رضى الله عنها قولوا خاتم الانبياء ولا تقولو الا نبي بعده و هذا ناظر الى نزول عيسى و هذا ايضًا لا يُنا فى حديث لا نبی بعدی