ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 150 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 150

واجب القبول ہو۔بلینک چیک کا مقام صرف خدا اور اس کے رسول کو حاصل ہے کیونکہ خُدا اور اس کے رسول ہی ایسی ہستیاں ہیں جن کی ہر بات ہر حال میں واجب القبول ہوتی ہے۔ان کے علاوہ کسی اور کو یہ مقام حاصل نہیں۔بلکہ باقی سب کے متعلق علی قدر مراتب خذ ما صفا و دع ماکلد کا اصول چلتا ہے یعنی جو بات صحیح ہے اور قرآن وحدیث کے فیصلہ کے مطابق ہے اسے لے لو اور جو بات قرآن وحدیث کے خلاف ہے اسے رڈ کر دو۔اسی لئے ہم نے اس جگہ حضرت شیخ محی الدین ابن عربی کی شہادت ان کے سارے عقائد اور نظریات کی تصدیق کے لئے پیش نہیں کی بلکہ صرف اس محدود شہادت کے طور پر پیش کی ہے کہ ہماری طرح حضرت شیخ اکبر کے نزدیک بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف تشریعی نبوت کا دروازہ بند ہے نہ کہ ہر قسم کی نبوت کا۔اور اس حصہ میں پیش کردہ شہادت بالکل صاف اور واضح ہے اور کسی شبہ کی گنجائش نہیں۔پس اگر بالفرض ( اور میں یہ بات صرف فرض کے طور پر کہہ رہا ہوں ) حضرت شیخ محی الدین ابن عربی کا یہی عقیدہ تھا کہ ہر نبی کے لئے شریعت کالا نا ضروری ہے تو اس سے ہمارے موجودہ استدلال پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔کیونکہ اول تو جس مخصوص غرض کے ماتحت ہم نے یہ حوالہ پیش کیا ہے اس کے لحاظ سے یہ ایک زائد اور لاتعلق بات ہے۔دوسرے جیسا کہ ہم حضرت امام شعرانی کے حوالہ کی بحث کے تعلق میں قرآن اور حدیث اور تاریخ اور عقلی دلائل کی متحدہ شہادت سے ثابت کر چکے ہیں یہ خیال ہرگز درست نہیں کہ ہر نبی کے لئے نئی شریعت کالا نا ضروری ہے۔بہر حال حضرت شیخ اکبر کا منشاء صرف یہ ہے کہ وہ تشریعی نبوت کو مبقت خاصہ کا نام دے کر اس کا دروازہ توکلی طور پر بند قرار دیتے ہیں۔مگر اس کے مقابل پر نبوت کی باقی اقسام کو بقت عامہ کے لفظ سے تعبیر کر کے اس کا رستہ ہمیشہ کے لئے کھلا سمجھتے ہیں۔وھو المراد۔