ختم نبوت کی حقیقت — Page 126
ختم سکوت کی حقیقت زیر نظر کی ایک بالکل باطل اور مردود تشریح ہے جسے کوئی باغیرت مسلمان قبول نہیں کر سکتا۔اور حق یہی ہے کہ اس حدیث میں صرف شریعت کی تکمیل کا ذکر کرنا مقصود تھا اور اس کے سوا کچھ نہیں۔تشریعی نبیوں کے دلچسپ یونٹ آج کل کی سیاسی اصطلاح میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس حدیث میں ہر شریعت لانے والے نبی کو ایک علیحدہ علیحدہ یونٹ یعنی اکائی کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اگر صاحب شریعت نبیوں کو مختلف یونٹ قرار دیکر آپ کے وجود مبارک کو اِن یونٹوں میں سے ایک یونٹ فرض کیا جائے تو آپ کی مثال اس اینٹ کی ہے جو آخر میں آکر اپنے موقع پر لگ گئی اور شریعت کی عمارت کو ہمیشہ کے لئے مکمل کر دیا۔یہی اشارہ اس حدیث کے ان الفاظ میں ہے کہ ھلا وضعت هذه اللبنةُ ( یعنی یہ کونے کی اینٹ ابھی تک کیوں نہیں لگی تا یہ عمارت مکمل ہو ) جس کا یہ مطلب ہے کہ فطرت انسانی اس بات کو محسوس کر رہی تھی اور اس کا تقاضا کر رہی تھی کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ دُنیا کے لئے ایک عالمگیر اور دائمی شریعت نازل کر کے شریعت کی عمارت کو مکمل کر دیا جائے۔ورنہ اگر محض نبوت کا سوال ہوتا تو اس جگہ اس فطری طلب اور فطری تقاضا کے ذکر کا کوئی موقع نہیں تھا۔پس حق یہی ہے کہ اس لطیف حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شریعت لانے والے نبیوں میں سے ایک یونٹ کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور جیسا کہ ہر واقف کار شخص جانتا ہے کہ یونٹ کی گنتی میں سب چیزوں کا شمار برابر ہوتا ہے اور چھوٹی بڑی چیز میں کوئی امتیاز مد نظر نہیں رکھا جاتا۔اور اس مثال سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ