ختم نبوت کی حقیقت — Page 125
۱۲۵ المرادهنا النظر الى الاكمل بالنسبة إلى الشريعة المحمدية مع ما مطى من الشرائع الكاملة - ( فتح الباری جلد ۶ صفحه ۳۶۱) یعنی اس جگہ صرف اس بات کا اظہار کرنا مقصود ہے کہ گو سابقہ شریعتیں اپنے اپنے زمانہ کی ضرورتوں کے لحاظ سے کامل ہوں لیکن شریعت محمدیہ نے خدائی شریعت کو دائمی صورت میں اکمل مکمل کر دیا ہے۔“ رسول پاک سلسلہ نبوت کا مرکزی نقطہ تھے۔پس حق یہی ہے کہ اس حدیث میں صرف شریعت کی تکمیل کی طرف اشارہ ہے۔ورنہ اگر اس مثال کو عام سمجھا جائے تو اس میں نعوذ باللہ ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کی سخت ہتک لازم آتی ہے کہ گویا نعوذ باللہ من ذلک نبوت کی وسیع عمارت میں آپ کا مقام صرف ایک اینٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔حالانکہ آپ فرماتے ہیں کہ کنت نبيًّا و ادم منجدل بين الماء والطین۔یعنی میں نبوت کا مرکزی نقطہ ہوں اور اُس وقت سے نبی ہوں جب کہ اس دُنیا کا پہلا نبی یعنی آدم ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔اس لطیف حدیث میں یہ اشارہ کرنا مقصود تھا کہ خدا نے تمام دوسرے نبیوں کو آپ ہی کی نبوت کا ملہ تامہ کی تیاری کے لئے پیدا کیا تھا۔کیونکہ آپ مسلسلۂ رسالت کا مرکزی نقطہ تھے۔اور آپ کے ذریعہ خدائی شریعت نے اپنے کمال کو پہنچنا تھا۔ایسی ارفع اور اشرف اور اکمل ہستی کے لئے جو سید ولد آدم اور لولاک لما خلقت الافلاک کی مصداق ہے یہ خیال کرنا کہ آپ مقام نبوت کے لحاظ سے نبوت کی وسیع عمارت میں صرف ایک اینٹ کی حیثیت رکھتے تھے حدیث