ختم نبوت کی حقیقت — Page 127
۱۲۷ یونٹ کے لحاظ سے لا زما صرف تشریعی اور مستقل نبیوں کو ہی شمار کرنا ہوگا۔اور کسی ظلی اور انتی نبی کا سوال پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ایک امتی نبی کی حیثیت ایک شاخ کی ہوتی ہے نہ کہ ایک علیحدہ مستقل درخت کی۔علاوہ ازیں ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس حدیث کے آخر میں انا خاتم النبیین کے پر حکمت الفاظ فرما کر ساری بحث کا فیصلہ کر دیا ہے اور ان الفاظ میں مسلمانوں کو نصیحت فرمائی ہے کہ اس حدیث کے کوئی ایسے معنی نہ سمجھ لینا جو قرآنی آیت خاتم النبیین کے خلاف ہوں کیونکہ اگر میں الانبیاء من قبلی ( یعنی اپنے سے پہلے نبیوں) کے لحاظ سے تشریعی نبوت کی آخری اینٹ ہوں تو خاتم النبیین ہونے کے لحاظ سے میں آئندہ نظام کی خشت اول بھی ہوں اور اب قیامت تک صرف میری ہی مہر اور میرا ہی سکہ چلنے والا ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ جیسا کہ اس حدیث کے حکیمانہ الفاظ سے ظاہر ہے اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام نبوت کی طرف اشارہ کرنا ہرگز مقصود نہیں بلکہ صرف ایک یونٹ یعنی اکائی کی حیثیت میں آپ کی تشریعی نبوت کی طرف اشارہ کرنا اصل مقصد ہے اور غرض یہ ہے کہ آپ کے زمانہ میں فطرتِ انسانی دُنیا کے حالات کے ماتحت ایک عالم گیر اور دائمی شریعت کا تقاضا کر رہی تھی۔اور اس فطری تقاضا کو آپ کی لائی ہوئی شریعت نے ہمیشہ کے لئے پورا کر دیا۔یہی وہ تشریح ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ارفع شان اور قرآنی شریعت کے عالی مقام کے مطابق درست بیٹھتی ہے۔ور نہ نعوذ باللہ یہ ماننا پڑتا ہے کہ ایک وسیع عمارت میں آپ کی حیثیت ایک اینٹ۔زیادہ نہیں۔