ختم نبوت کی حقیقت — Page 110
11+ ہوتی۔مگر ویسے وہ کسی سابقہ نبی کی پیروی کے بغیر براہ راست خدا کی طرف سے ملتی ہے اور اسی لئے اس کا نام مستقل نبوت رکھا جاتا ہے۔کیونکہ ایسی نبوت کسی سابقہ نبوت کے سہارے پر قائم نہیں ہوتی بلکہ خود اپنے پاؤں پر کھڑی ہوتی ہے۔اور یادر ہے کہ اسجگہ مستقل کا لفظ عارضی کے مقابل پر نہیں ہے بلکہ آزاد کے معنی میں ہے اس نبوت کی مثال ایسی ہے جیسی کہ حضرت موسیٰ کے بعد حضرت داؤ ڈ یا حضرت سلیمان یا حضرت یحیی یا حضرت عیسی کی مبقت تھی۔یہ بزرگ نبی بے شک موسوی شریعت کے تابع تھے۔لیکن انہیں حضرت موسی کی پیروی کی برکت سے نبوت نہیں ملی تھی بلکہ آزاد طور پر مستقل حیثیت میں نبوت ملی تھی اور اس کے بعد وہ خدا کی طرف سے موسوی شریعت کی خدمت میں لگا دیئے گئے تھے۔(سوم) غیر تشریعی غیر مستقل نبوت جو دوسرے لفظوں میں ظلی نبوت کہلاتی ہے۔ایسی نبوت کے ساتھ نہ تو کوئی نئی شریعت ہوتی ہے اور نہ ہی یہ نبوت کسی سابق تشریعی نبی کی پیروی سے آزاد ہوکر براہ راست ملتی ہے۔بلکہ وہ محض سابق نبی کی پیروی سے اور اسی کی شاگردی میں اور اسی کے فیض سے فیض پا کر خلقی طور پر ملتی ہے۔اور چونکہ ظل کے معنی عکس کے ہیں اس لئے ایسی نبوت گویا سابق نبی ہی کی نبوت کا حصہ ہوتی ہے۔نہ کہ کوئی علیحد و چیز۔سوات کی یہ قسم جس کا حامل امتقی ہی کہلاتا ہے صرف ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ظاہر ہوئی ہے۔کیونکہ آپ سے پہلے کوئی نبی اس مقام کو نہیں پہنچا تھا۔اور نہ کسی شریعت کو ایسا کمال حاصل