ختم نبوت کی حقیقت — Page 111
ہو ا تھا کہ اس کی پیروی کسی شخص کو نبوت تک پہنچا سکتی۔رسُولِ پاک بہر حال آخری نبی ہیں۔اس تشریح سے جو ہم اس رسالہ میں بار بار کر چکے ہیں ظاہر ہے کہ جہاں تک پہلی دو قسم کی نبوت کا سوال ہے ( یعنی نبوت تشریعی اور نبوت مستقلہ ) ان میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری نبی ہونا بالکل ظاہر وعیاں ہے ، جس میں کسی شخص کو کلام نہیں ہوسکتا۔کیونکہ یہ بات مسلّمہ فریقین ہے کہ نہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی تشریعی نبی آ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا نبی آسکتا ہے جس نے آپ کی پیروی کی وساطت کے بغیر نبوت حاصل کی ہو۔اور اس لحاظ سے آپ بہر صورت آخری نبی ہیں۔باقی رہا تیسری قسم کی نبوت کا سوال ( یعنی ظلی نبوت ) سو ہر شخص تھوڑے سے غور کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ اس صورت میں بھی حقیقہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی آخری نبی رہتے ہیں کیونکہ آپ کی پیروی میں اور آپ کے فیض سے نبوت پانے والا شخص آپ ہی کی شاخ اور آپ ہی کا حصہ ہے نہ کہ کوئی جدا گانہ چیز۔اس کا وجود تو محض ایک آئینہ ہے جس میں چودھویں رات کے چاند کی طرح سورج کے انوار منعکس ہو گئے ہیں اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔پس اس صورت میں بھی بہر حال آپ ہی کو آخری نبی کہا جائیگا نہ کہ اُس کو جو آپ ہی کے ٹور سے ٹور پا کر روشنی دے رہا ہے اور وہ ظت ہے نہ کہ اصل۔اس کی مثال اس طرح بھی سمجھی جاسکتی ہے کہ ایک شخص نے ایک باغ لگایا اور اس میں طرح طرح کے درخت نصب کئے اور پھر اُس باغ کی تکمیل کے لئے اس میں ایک