ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 109 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 109

1+9 تین قسم کے نبی دراصل سارا دھوکا اِس وجہ سے لگ رہا ہے کہ کبھی بھی سنجیدگی کے ساتھ اس بات پر غور نہیں کیا گیا کہ ہم بانی سلسلہ احمدیہ کو کس قسم کا نبی مانتے ہیں۔اور محض نبی کا لفظ سن کر شور مچادیا جاتا ہے کہ لیجیؤ دوڑ یو غضب ہو گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت ٹوٹ گئی اور رسول پاک کی جگہ ایک اور شخص کو آخری نبی قرار دے دیا گیا! کاش ہمارے بھٹکے ہوئے دوست چندمنٹ تحمل اور صبر سے کام لیکر اور اپنے دل کی تختی کو صاف کر کے اس بات پر غور کریں کہ نبوت کس چیز کا نام ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کونسی نہر بند کی ہے اور کونسی کھولی ہے! اگر ہمارے ناظرین بھول گئے ہوں تو میں پھر اس بات کو دُہرا دیتا ہوں کہ جیسا کہ قرآن مجید اور احادیث اور تاریخ سے ثابت ہے نبوت تین قسم کی ہے:۔(اول) تشریعی نبوت جس کے ساتھ کوئی نئی شریعت نازل ہوتی ہے اور نبوت میں ایک نئے دور کا آغاز ہو جاتا ہے۔جس طرح کہ حضرت موسیٰ کی نبوت تھی جن پر تو راہ کی شریعت نازل ہوئی یا جس طرح ہمارے آقا صلی اللہ یہ وسلم کی نبوت تامہ کاملہ تھی۔جن پر قرآن مجید کی دائی شریعت کا نزول ہوا۔اس قسم کی نبوت تشریعی بھی ہوتی ہے اور مستقل بھی۔تشریعی اس لئے کہ اس کے ساتھ نئی شریعت کا نزول ہوتا ہے۔اور مستقل اس لئے کہ وہ سابقہ نبی کی اتباع اور پیروی کے بغیر براہِ راست عطا کی جاتی ہے۔اور اسی لئے اس قسم کی نبوت بعض اوقات حقیقی نبوت کے نام سے موسوم ہوتی ہے۔( دوم ) غیر تشریعی مستقل نبوت جس کے ساتھ کوئی نئی شریعت تو نازل نہیں علیہ و