ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 105 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 105

۱۰۵ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا ہے ک میرے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں اِس سے صرف یہ مراد ہے کہ میرے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا رسول نہیں آسکتا۔“ حضرت امام شعرانی کی یہ تشریح بالکل صاف اور واضح ہے جس میں کوئی عقلمند شخص ایک لمحہ کے لئے بھی شک نہیں کر سکتا۔اور اگر اس جگہ کوئی کج بحث انسان ہمیں حضرت ملا علی قاری والے حوالہ کی طرح جو ہم حدیث لو عاش ابراهيم لكان صديقا نبیا کے ضمن میں اوپر بیان کر آئے ہیں اس بحث میں گھسیٹنا چاہے کہ نبوت کے متعلق حضرت امام شعرانی کا ذاتی مذہب تو یہ تھا یا وہ تھا تو یہ ایسے شخص کی صریح نادانی یا بد دیانتی ہوگی۔کیونکہ جیسا کہ ہم حضرت ملا علی قاری والے حوالہ کی بحث میں صراحت کے ساتھ بیان کر چکے ہیں ہمیں اس جگہ اس بحث سے کوئی غرض نہیں کہ کسی نبی کے آنے یا نہ آنے کے متعلق امام شعرانی " کا مذہب کیا تھا۔بلکہ ہمیں اس جگہ صرف اس سوال سے سروکار ہے کهہ امام صاحب کے نزدیک لا نبی بعدی کی تشریح کیا تھی۔اور یہ تشریح یقیناً یہی تھی کہ لا مشرع بعدہ۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نئی شریعت والا نبی نہیں آ سکتا۔پس خُدا کے لئے مخلوق خدا کو دھوکا دینے کے طریق پر خلط مبحث سے کام نہ لو۔کیونکہ اس جگہ ہماری بحث امام شعرانی کے دُوسرے معتقدات کے متعلق نہیں ہے۔بلکہ صرف اس محمد و سوال کے متعلق ہے کہ اُن کے نزدیک حدیث لا نبی بعدی کی تشریح کیا تھی۔اور یہ بات ان کے اس حوالہ سے جو او پر درج کیا گیا ہے اظہر من الشمس ہے کہ ان کی تشریح یہی اور فقط یہی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شارع نبی نہیں آسکتا وهو المُراد۔