ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 106 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 106

1۔4 ہر نبی کے لئے نئی شریعت کا لانا ضروری نہیں ! باقی اگر بالفرض ( اور میں یہ بات پھر صرف فرض کے طور پر کہہ رہا ہوں ) امام شعرانی کا ذاتی خیال یہی تھا کہ نبی وہی ہوتا ہے جو نئی شریعت لائے تو یہ خیال کسی طرح درست نہیں۔کیونکہ قرآن مجید صریح الفاظ میں فرماتا ہے کہ :۔وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَبَ وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ (اور پھر فرما تا ہے ) إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَةَ فِيهَا هُدًى وَنُوْرٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا - سوره بقره آیت ۸۸ وسوره مائده آیت ۴۵) یعنی ہم نے موسیٰ پر کتاب نازل کی اور پھر موسیٰ کے بعد اس کی اتباع میں پے در پے رسُول بھیجے۔۔۔۔۔اور ہم نے موسیٰ پر تو راۃ اُتاری تھی جس میں بنی اسرائیل کے لئے ہدایت اور نو ر تھا اور اسی کی شریعت کو تسلیم کر کے اور اسی کی ہدایت کے مطابق موسیٰ کے بعد آنے والے نبی یہودی قوم میں دینی مسائل کا فیصلہ کیا کرتے تھے۔“ یہ ایک بالکل واضح اور صریح آیت ہے جس کے مفہوم کے متعلق کسی شک کی گنجائش نہیں۔بلکہ قرآن مجید کی بہت سی دوسری آیات بھی اس کی تصدیق کرتی ہیں اور حدیث سے بھی اسی کا ثبوت ملتا ہے۔مثلاً حدیث میں آتا ہے کہ دُنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی گزرے ہیں جن میں سے شریعت لانے والے رسول صرف تین سو پندرہ تھے ( مسند احمد بحوالہ مشکوۃ باب بدء الخلق و ذكر الانبياء ومرقاة شرح مشكوة جلد ۵ صفحہ ۳۵۲( اور پھر واقعات کی