آیت خاتم النبیین اور جماعت احمدیہ کا مسلک

by Other Authors

Page 55 of 56

آیت خاتم النبیین اور جماعت احمدیہ کا مسلک — Page 55

حرف آخر تمام حق پسند ناظرین پر پیش کردہ اقتباسات کے مطالعہ سے بخوبی واضح ہو چکا ہوگا کہ جماعت احمدیہ آیت خاتم النبیین کی جو تشریح و توضیح کرتی ہے وہ ونہی ہے جو قبل ازیں عارفین ربانی صلحائے امت اور بزرگان سلف پیش کرتے چلے آئے ہیں۔اگر یہ موقف کلمہ کفر ہے اور اس کے نتیجہ میں انسان لا زنا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار پاتا ہے تو پھر کیا یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ جو بات ایک کیلئے باعث کفر ہے وہ دوسرے کیلئے کیوں باعث کفر نہیں اور جو بات آج کا فر بناتی ہے وہ کل تک کیوں کافر نہیں بناتی تھی۔کیا ہمیں یہ ماننے پرمجبور یا جائیگا کہ کفر اسلام کے پیمانے فرد فرد اور وقت وقت کے لحاظ سے بدلتے رہتے میں جو بات زید کے لئے باعث کفر ہے وہ بکر کیلئے نہیں اور جو آج باعث کفر ہے اوہ کل نہیں تھی۔ہمارے کر مقر ماؤں کا اگر یہی موقف ہے تو سخدا یہ تو دین اسلام نہیں۔اور خلق محمدی سے اسے دور کا بھی واسطہ نہیں۔پیس ہمیں یقین ہے کہ حق پسند ناظرین پر یہ حقیقت خوب واضح ہوچکی ہوگی کہ اگر کوئی بدلا ہے تو وہ ہم نہیں بارے ختم نبوت کے بارہ میں کوئی نیا مسالک در دین بنایا گیا ہے تو وہ جماعت احمدیہ نے نہیں بنایا بلکہ تاریخ اسلام کی تیرہ صدیاں احمدیت کے موقف میں اس کی تائید اور پشت پناہی کر رہی ہیں۔علمائے ربانی کا ایک روشن سلسلہ جو آغاز اسلام سے لیکر تیرہ سو سال تک پھیلا ہوا ہے احمدیت کے موقف پر محمر تصدیق ثبت سحر رہا ہے۔پھر آج ہم اگر باعث قہر