مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 59
رہے ہیں۔گویا اسی نوعیت کا ہوگا جیسے “ کے الفاظ آپ کی لغت میں تشبیہ کا فائدہ نہیں دیتے۔خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ علماء امت جیسا کہ پہلے ثابت کیا جا چکا ہے حضرت عیسی علیہ السلام کو بعد از نزول بھی نبی اللہ قرار دیتے چلے آئے ہیں مگر نبی نا ئب کی حیثیت میں۔پس جس طرح ایک صدر کے دور میں ایک نائب صدر کا وجود خلاف آئین نہیں ہوتا۔اسی طرح خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی ماتحتی میں آپ کے کسی امتی کا نبی نائب کی حیثیت میں آنا بھی منافی خاتم النبیین نہیں۔یہ بات ہر کوئی آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ صدر کے ساتھ کسی نائب صدر کا وجود کسی طرح بھی خلاف آئین نہیں۔سوال نمبر ۱۵ کیا مودودی صاحب صدر کی موجودگی میں نائب صدر کو خلاف آئین قرار دے سکتے ہیں۔مودودی صاحب کے نزدیک نبی کی حقیقت مودودی صاحب لکھتے ہیں :۔محض اصلاح کے لئے نبی دُنیا میں کب آیا ہے کہ آج صرف اس کام کے لئے وہ آئے ؟ نبی تو اس لئے مقرر ہوتا ہے کہ اس پر وحی کی جائے اور وحی کی ضروریات یا تو کوئی نیا پیغام دینے کے لئے ہوتی ہے یا پچھلے پیغام کی تکمیل کرنے کے لئے یا اس کو تحریفات سے پاک کرنے کے لئے“ (رساله ختم نبوت صفحه ۳۶) نبی کی یہ تینوں صورتیں تشریعی نبی کی ہیں۔نبی کی چوتھی صورت جو انہوں نے اس سے پہلے صفحہ ۳۵ پر بیان کی ہے یہ ہے کہ 59