مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 60
ایک نبی کے ساتھ اس کی مدد کے لئے ایک اور نبی کی حاجت ہو“ اس کے متعلق وہ لکھتے ہیں :۔دم اگر اس کے لئے کوئی نبی درکار ہوتا تو وہ حضور کے زمانے میں آپ کے ساتھ مقرر کیا جاتا۔ظاہر ہے کہ جب وہ مقرر نہیں کیا گیا تو یہ وجہ بھی ساقط (رساله ختم نبوت صفحه ۳۶) ہوگئی۔اس کے متعلق عرض ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے مودودی صاحب کی بیان کردہ پہلی تینوں صورتوں میں سے جو تشریعی نبوت کی صورتیں ہیں، کسی صورت میں بھی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ جماعت احمد یہ انہیں ایسا نبی یقین کرتی ہے۔چوتھی صورت مودودی صاحب کے نزد یک ساقط ہے۔اب پانچویں صورت کے متعلق سنہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح مسلم کی حدیث میں جس کا پہلے ذکر آچکا ہے مسیح موعود کو چار دفعہ نبی اللہ قرار دیا ہے اور اس پر وحی کا نزول بھی بیان فرمایا ہے۔شارع نبی تو کوئی آنہیں سکتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی نبی ہوا نہیں تو یہ پانچویں قسم کی نبوت اگر اصلاح خلق کے لئے نہیں ہے جو مسیح موعود کو حاصل ہوگی تو مودودی صاحب بتائیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کو صاحب وحی اور نبی اللہ کیوں قرار دیا ہے؟ مطلق نبوت کے ارتفاع پر جب امت کا اجماع نہیں تو اب پانچویں قسم کا جو نبی آئے گا وہ اصلاح کے لئے نہیں ہوگا تو اور کس غرض کے لئے ہوگا؟ حضرت امام عبد الوہاب شعرانی علیہ الرحمتہ واشگاف الفاظ میں لکھتے ہیں:۔فَإِنَّ مُطلَقَ النُّبُوَّةِ لَمْ تَرْتَفِعُ إِنَّمَا ارْتَفَعَتْ نُبُوَّةُ التَّشْرِيع - الیواقیت والجواہر جلد ۲ صفحه ۲ مبحث ۳) پس بے شک مطلق نبوت نہیں اٹھی صرف تشریعی نبوت اُٹھی ہے 60