مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 43
جیسے خاتم بفتح تا کا اثر اور نقش مختوم علیہ میں ہوتا ہے ایسے ہی موصوف بالذات کا اثر موصوف بالعرض میں ہوتا ہے۔حاصل مطلب آیت کریمہ اس صورت میں یہ ہوگا کہ ابوت معروفہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی مرد کی نسبت حاصل نہیں پر ابوت معنوی امتیوں کی نسبت بھی حاصل ہے اور انبیاء کی نسبت بھی حاصل ہے انبیاء کی نسبت تو فقط آیت خاتم النبیین شاہد ہے کیونکہ اوصاف معروض اور موصوف بالعرض ( یعنی دوسری نبوتیں اور دوسرے نبی) موصوف بالذات کی ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) فرع ہوتے ہیں اور موصوف بالذات اوصاف عرضیہ کی اصل ہوتا ہے اور وہ اس کی نسل اور امتیوں کی نسبت لفظ رسول اللہ میں غور کیجئے ( تحذیر الناس صفحہ ۱۰۔۱۱) خاتم النبیین کے ان معنوں کا مفادوہ یہ بتاتے ہیں :۔اس صورت میں فقط انبیاء کے افراد خارجی (جو نبی آچکے ) پر آپ کی فضیلت ثابت نہ ہوگی بلکہ افرادِ مقدرہ (جن کا آنا تجویز کیا جائے ) پر بھی آپ کی فضیلت ثابت ہو جائے گی بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلعم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہیں آئے گا (تحذیر الناس صفحہ ۲۸) خاتم النبیین کے حقیقی لغوی معنی سے مودودی صاحب کا انکار مولوی مودودی صاحب نے خاتم النبیین کے معنی محض آخری نبی بیان کرنے کے لئے عربی لغت کی کتابوں سے بعض حوالے پیش کئے ہیں مگر جیسا کہ آپ معلوم کر چکے ہیں کہ حضرت مولوی محمد قاسم صاحب بانی دارالعلوم دیو بند کے ایک قول کے مطابق آخری نبی کے معنی کسی ذاتی فضیلت پر دال نہیں بلکہ یہ خاتم النبیین کے عامیانہ معنے ہیں نہ اھلِ فہم کے معنے۔اہل فہم 43